اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ نے ایران سمیت بعض ممالک میں انسانی حقوق کی صورت حال کے بارے میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی حالیہ رپورٹ کے بارے میں لکھا ہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے پچیسویں اجلاس کے نتائج اس کونسل میں امریکہ کی شراکت اور اس کے بھرپور اور قوی کردار کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔
امریکہ ایک ایسے وقت میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی رپورٹوں کی تیاری میں مداخلت پر زور دے رہا ہے کہ جب انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے سلسلے میں اس کا ماضی سیاہ ہے۔
انسانی حقوق کے دفاع اور اس کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں میں امریکہ جیسے ممالک کی شرکت، ایک مثبت نشانی اور علامت سمجھے جانے سے زیادہ انسانی حقوق کے مسئلے میں واضح دوغلے پن کی عکاس سمجھی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کس طرح ایک ایسا ملک کہ جس نے انسانی حقوق کو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے ایک حربے میں تبدیل کر دیا ہے، عالمی سطح پر انسانی حقوق کے دفاع کا دعویدار ہے۔
امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے انسانی حقوق کونسل کے حالیہ اجلاس میں مخاصمانہ رویہ اپناتے ہوئے ایسی قراردادیں پیش کی ہیں کہ جن میں بعض ممالک کو انسانی حقوق خلاف ورزیوں اور تشدد کے سلسلے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کی گئي ہے لیکن ان میں سے کسی بھی رپورٹ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے موجودہ حقائق کی طرف کوئي اشارہ نہیں کیا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں انسانی حقوق کی صورت حال کے بارے میں شفاف اور غیرجانبدارانہ رپورٹوں کی تیاری کی ضرورت کے باوجود امریکہ نے انسانی حقوق کے بارے میں دعوے اور پروپیگنڈا کر کے اس کونسل کو ایسی سمت دھکیل دیا ہے کہ وہ سیاسی قراردادیں اور بیانات جاری کر کے ایران سمیت چند دیگر ممالک میں انسانی حقوق کی صورت حال کو خوردبین کے نیچے لے جاتی ہے۔
ایران میں انسانی حقوق کی صورت حال کے بارے میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے خصوصی رپورٹر احمد شہید کی حالیہ مخاصمانہ رپورٹ کہ جو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے حالیہ اجلاس میں پیش کی گئي، اسی مقصد کے تحت تیار کی گئي ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مغرب نے انسانی حقوق کے مسئلے کو کبھی بھی غیرجانبدارانہ اور تعمیری نظر سے نہیں دیکھا ہے اور اسی بنا پر اس قسم کی نام نہاد انسانی حقوق کی رپورٹیں ہمیشہ نیک نیتی سے عاری رہی ہیں۔ برطانیہ، کینیڈا، امریکہ اور فرانس جیسے ممالک کا ماضی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے بھرا پڑا ہے۔ عراق، افغانستان، ابو غریب اور گوانتانامو جیلوں میں امریکہ کے جرائم و مظالم، امریکہ میں سیاہ فاموں کے حقوق کی وسیع پیمانے پر پامالی، کینیڈا کے مقامی باشندوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک اور فرانس اور برطانیہ میں نسلی امتیاز، ان ممالک میں انسانی حقوق کی اصل صورت حال کے صرف چند نمونے ہیں۔ درحقیقت انسانی حقوق کے مسئلے پر مغرب کے دوغلے رویے نے عالمی سطح پر اس سلسلے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکام کے دعووں کے برخلاف انسانی حقوق کے میدان میں اس ملک کا کردار مکمل طور پر منفی اور غیرتعمیری ہے اور امریکہ اصولی طور پر دوسرے ملکوں میں انسانی حقوق کی صورت حال کے بارے میں اظہار خیال کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے۔
...............
242