27 مارچ 2014 - 19:30
کابل میں عالمی جشن نوروز کی تقریب سے ڈاکٹر روحانی کا خطاب

اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ نوروز، ایسا ثقافتی یادگار ہے جس میں لوگوں کو موسم بہارسے لطف اندوز ہونے کاموقع میسر ہوتا ہے۔

ابنا:  اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر نے کل افغانستان کے دارالحکومت کابل میں عالمی جشن نوروز کی تقریب میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ نوروز، اعلی و ارفع انسانی تہذیب وتمدن کی یادگار ہے، نوروز کو ایسی  قدیم ترین تاریخی روایت سےتعبیرکیا جو کبھی پرانی نہیں ہوگی۔ صدر مملکت نے اس مناسبت سے اجلاس کے شرکاء اور ملت افغانستان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج اعتدال پسندی کی آواز کا، جو عدل وانصاف اور امن کی آواز بھی ہے، عالمی سطح پر خیرمقدم کیا گيا ہے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد کی منظوری کے ذریعے تشدد اور انتہاپسندی کے خلاف عالمی مقابلے کو اپنے ایجنڈے میں قرار دیا ہے۔ جناب روحانی نے اس امر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ فطرت میں توازن سیاسی توازن کے بغیر فروغ نہیں پاسکتا، کہا کہ ایسے علاقے میں کہ جہاں ایک گروہ، ولو چھوٹا ہی سہی، جہالت کا ڈھول پیٹ رہا ہو، وہاں اعتدال پسندی کی بات نہیں کی جاسکتی کیوں کہ انتہاپسندی، لوگوں کی جانیں لے لیتی ہے ۔قابل ذکر ہے کہ جشن نوروز، ہر سال کسی ایک ایسے ملک میں، ہوتا ہے جو فارسی تہذیب  و ثقافت کے قلمرو میں آتے ہیں۔ واضح رہے کہ صدرمملکت جناب حسن روحانی آج صبح پانچویں عالمی جشن نوروز میں شرکت کے لئے افغانستان پہنچے۔ عالمی جشن نوروز ستمبر 2009 میں یونسکو کی جانب سے عالمی ورثے کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے  بھی 23 فروری 2010  میں، 21 مارچ کی تاریخ کو ایرانی تہوارکی حیثیت سے عید نوروز کو عالمی دن کی حیثیت سے باضابطہ طور پر تسلیم کیا اور اسے کلینڈر میں درج کیا۔ قابل ذکر ہے کہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی، افغانستان میں نوروز کی تقریب میں شرکت اور مختلف حکام سے ہونے والی ملاقاتوں کے بعد واپس تہران پہنچ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲