26 مارچ 2014 - 19:30
دھشتگردی کے مقابلے کے لیے ایران و پاکستان مشترکہ کمیٹی تشکیل

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ نے دھشتگردوں کے ساتھ مقابلے کے لئے ایران و پاکستان کے مشترکہ سیکیورٹی اقدامات کی خبر دی ہے۔

ابنا: پارلیمنٹ نیوز کی رپورٹ کے مطابق "علاءالدین بروجردی" نے آج کہا کہ دھشتگردوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ایران و پاکستان کی وزارت داخلہ کے درمیان مشترکہ کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔ ایران کی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ نے مزید کہا کہ یہ کمیٹی حتمی طور پر دھشتگردوں کے ہاتھوں اغواء ہونے والے ایرانی سرحدی محافظوں کی رہائی کے حوالے سے اطلاعات و معلومات کا تبادلہ کرے اور مشترکہ کوشیشوں کے دائرے کو وسیع کرے ، کیونکہ اس قسم کا تعاون مستقبل میں سیکیورٹی خدشات کے سدباب میں مددگار ثابت ہوگا۔ "علاءالدین بروجردی" نے ایران و پاکستان حکام کی شرکت کے ساتھ مشترکہ خصوصی کمیٹی کی تشکیل دی گئی ہے ، لیکن ایرانی حکام نے رابطہ نہیں کیا جیسے بیانات پر مبنی پاکستان کی وزارت خارجہ کی ترجمان کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکام نے اغواء کے واقعہ کے فورا بعد پاکستان کے حکام سے رابطہ قائم کیا تھا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ نے وضاحت کی کہ حتی اگر ایرانی حکام نے اس واقعے کے بعد پاکستان سے رابطہ بھی نہ کیا ہو تب بھی بین الاقوامی قوانین اور ہمسایہ تعلقات کے لحاظ سے ایرانی سرحدی محافظوں کی جان کے تحفظ کی ذمہ داری پاکستان کی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ فروری کے شروع میں جیش العدل نامی دہشت گرد تنظیم نے ایران کے جنوب مشرقی صوبے سیستان و بلوچستان کے جكيگور نامی علاقے سے ایران کے بارڈر سیکورٹی فورسز کے 5 جوانوں کو اغوا کر لیا تھا جنہیں بعد میں پاکستان منتقل کر دیا تھا ، ان میں سے ایک کوگذشتہ دنوں شہید کردیا گيا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲