20 مارچ 2014 - 20:30
ملیشیا ، مدد کی درخواست , پاکستان کا مثبت جواب

ملیشیا کے لاپتہ طیارے کے تلاش کا کام بدستور جاری ہے۔

ابنا: موصولہ خبروں کے مطابق جنوبی بحرہند میں صبح ہوتے ہی  لاپتہ ملیشیائی طیارے کی تلاش کا کام دوبارہ شروع کر دیاگیا۔  ملیشیا کے حکام کاکہنا ہے کہ سٹیلائٹ سے لی گئی تصویر کے مطابق بحرہند میں تیرتی اشیاء ممکنہ طور پر لاپتہ مسافر طیارے کے ٹکڑے ہوسکتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ ان اشیاء تک پہنچنے پر طیارے کے بارے میں نئی معلومات سامنے آسکتی ہیں ۔  طیارے کے ممکنہ ٹکڑوں کی سیٹلائیٹ تصاویر 16 مارچ کولی گئی تھیں۔ طيارے کے دو ٹکڑوں کے ملنے کي اطلاع آسٹريلوي بحريہ کے زيراستعمال ايک سيٹلائيٹ کے ذريعے ارسال کي گئي ہيں۔ ادھر پاکستان نے ملیشیا کی جانب سے اس ملک کے گمشدہ طیارے کی تلاشی میں تعاون کی درخواست کامثبت جواب دیا ہے ۔ شین ہوا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ابھی تک ملیشیا کے لاپتہ طیارے کے بارے میں کوئی سراغ نہيں ملا ہے اور ہماری تحقیقات اور کوشش کا کوئی نتیجہ نہيں نکلا ہے ۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان تحققیات جاری رکھنے ميں حکومت ملیشیا کی مدد کرے گي ۔ ملیشیا کے وزیر اعظم نجیب تون رزاق نے منگل کو پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف سے درخواست کی  تھی کہ وہ ملیشیا کے لاپتہ طیارے کی تلاشی میں اس ملک کی مدد کرے ۔ دوسری جانب امریکی وزارت دفاع نے بھی اعلان کیا ہےکہ واشنگٹن ، ملیشیا کے لاپتہ طیارے کی تلاش کے سلسلے میں حکومت ملیشیا کی مدد و حمایت جاری رکھے گا واضح ہو کہ مليشيا کا مسافر بردار طيارہ آٹھ مارچ کو دوسو انتاليس مسافروں کے ساتھ، کوالا لامپور سے بيجنگ جاتے ہوئے لاپتہ ہوگيا تھا۔ ......./169