19 مارچ 2014 - 20:30
شیعیان آل رسول، جامعۃ الازہر مصر کے سربراہ ڈاکٹر شیخ احمد الطیب کی نگاہ میں

سوال: میرا ایک سوال بہت سنجیدہ ہے وہ یہ کہ شیعہ ابوبکر اور عمر کو قبول نہيں کرتے، آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں؟ جواب: ہاں وہ انہیں خلفاء کو قبول نہیں کرتے لیکن کیا خلفاء پر عقیدہ رکھنا دین اسلام کے اصولوں میں سے ہے؟ ابوبکر اور عمر کا قصہ ایک تاریخی قصہ ہے اور تاریخ کا اصول عقائد سے کوئی تعلق نہيں ہے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق شیخ الازہر ڈاکٹر شیخ احمد الطیب نے مصر کے النیل چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: کہ شیعہ مسلمان ہیں اور وہابیوں کے فتوے معتبر نہیں ہیں۔

تفصیل دیکھئے: سوال: کیا آپ کی رائے میں شیعہ عقائد میں کوئی مشکل نہیں ہے؟ جواب: نہیں، کیا مشکل ہے ان کے عقائد میں، پچاس سال قبل شیخ محمود شلتوت نے فتوی دیا ہے کہ شیعہ مذہب اسلام کا پانچواں مذہب اور دوسرے مذاہب کی مانند ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سوال: ہمارے بچے شیعہ ہورہے ہيں، ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ جواب: اچھا تو شیعہ ہونے دو، کیا اگر کوئی حنفی یا مالکی مذہب سے چلا جائے، ہم اس پر کوئی اعتراض کرتے ہیں؟ یہ لوگ بھی چوتھے مذہب سے پانچویں مذہب ميں چلے گئے ہیں، جانے دو!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سوال: شیعہ ہمارے ساتھ رشتہ دار بن رہے ہیں اور ہمارے بچوں بچیوں کے ساتھ شادی بیاہ کررہے ہیں۔جواب: اس میں کیا حرج ہے، مذاہب کے درمیان شادی بیاہ کی اجازت ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سوال: کہا جاتا ہے کہ اہل تشیع کا قرآن الگ ہے!!!جواب: یہ بڈھی عورتوں کے خرافات و توہمات ہیں۔ شیعوں کے قرآن اور ہمارے قرآن میں کسی قسم کا کوئی فرق نہيں ہے اور حتی کہ ان کے قرآن کا رسم الخط بھی ہمارے رسم الخط کی مانند ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سوال: ایک ملک (سعودی عرب) کے 23 علماء نے فتوی دیا ہے کہ شیعہ کافر ہیں، رافضی ہیں! جواب: مسلمانان عالم کے لئے صرف الازہر فتوی دے سکتا ہے اور ان کا فتوی غیر معتبر ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سوال: تو پھر یہ جو اختلاف شیعہ اور سنی کے درمیان اچھالا جاتا ہے، یہ کیا ہے؟ جواب: یہ اختلافات بیرونی طاقتوں کی پالیسی ہے جو شیعہ اور سنی کے درمیان اختلاف ڈالنا چاہتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سوال: میرا ایک سوال بہت سنجیدہ ہے وہ یہ کہ شیعہ ابوبکر اور عمر کو قبول نہيں کرتے، آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں؟ جواب: ہاں وہ انہیں قبول نہیں کرتے لیکن کیا ابوبکر اور عمر پر عقیدہ رکھنا دین اسلام کے اصولوں میں سے ہے؟ ابوبکر اور عمر کا قصہ ایک تاریخی قصہ ہے اور تاریخ کا اصول عقائد سے کوئی تعلق نہيں ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اینکر جو اس جواب سے حیرت زدہ ہوگیا تھا، پوچھتا ہے: سوال: شیعوں کا ایک بنیادی مسئلہ ہے اور وہ یہ کہ وہ کہتے ہیں کہ ان کے امام زمانہ 1000 سال سے اب تک زندہ ہیں!!جواب: ممکن ہے کہ وہ زندہ ہوں، کیوں ممکن نہ ہو؟ لیکن کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہمارا عقیدہ بھی ان ہی کی طرح ہو۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سوال: کیا یہ ممکن ہے کہ ایک آٹھ سالہ بچہ امام ہو؟ (امام محمد تقی الجواد علیہ السلام کی طرف اشارہ) شیعوں کا عقیدہ ہے کہ ان کے ایک امام آٹھ سال کی عمر میں امام بن گئے تھے!!!جواب: ایک طفل گہوارے میں نبی ہوسکتا ہے تو اگر ایک آٹھ سالہ بچہ امام ہوجائے تو یہ عجیب نہيں ہے، گوکہ ممکن ہے کہ ہم سنی کی حیثیت سے ان کا یہ عقیدہ قبول نہ کریں؛ بہرحال اس عقیدے سے اس کے اسلام (مسلمان ہونے) کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا؛ اور وہ مسلمان ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/٭۔٭