ابنا: مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویژن کے ترجمان نے کہا ہے کہ ڈیرہ اللہ یار میں مجلس وحدت مسلمین اور سُنی اتحاد کونسل کا مشترکہ لبیک یا رسول اللہ (ص) کانفرنس کا انعقاد اور شیعہ سنی اتحاد کا مظاہرہ خوش آیند ہے۔ یہ کانفرنس انشاءاللہ اتحاد اُمت کیلئے سنگ میل ثابت ہوگا۔ دونوں جماعتوں کے قائدین کی یہ کاوش خراج تحسین کے مستحق ہے کیونکہ موجودہ ملکی حالات میں جہاں استکباری قوتیں اور بیرونی آلہ کار پاکستان کے مسلمانوں کو دست و گریبان کرنے میں مصروف ہیں۔ وہی ہزاروں کی تعداد میں شیعہ سُنی اتحاد کے مظاہرے نے یہ ثابت کر دیا کہ وطن عزیز پاکستان میں شیعہ سُنی اختلاف و انتشار نہیں بلکہ یہ ایک بناوٹ ہے، جو زبردستی لوگوں کے اندر ڈال رہے ہیں مگر الحمدللہ بیدار شیعہ و سُنی قیادت اور عوام نے ان تمام سازشوں کا اتحاد و اتفاق کے ذریعے مُنہ توڑ جواب دیا۔ یہی وہ نکتہ ہے جس میں ملکی بقاء اور سالمیت پوشیدہ ہے۔ اسی شیعہ و سُنی اتحاد کی بدولت ملک خداداد پاکستان آزاد ہوا تھا اور آج مختلف شکنجوں سے مادر وطن کی آزادی کیلئے بھی اسی قوت کی ضرورت ہے کیونکہ ہم ہی پاکستان بنانے والے ہیں اور ہم ہی اسکے بچانے والے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ تھر پارکر میں قحط سالی کی وجہ سے ہلاکتیں اور شدید انسانی بحران انتہائی تشویشناک ہے۔ افسوس تو اس با ت پر ہوتا ہے کہ آج کے اس جدید اور الیکٹرانک دور میں آخر بےحس حکمرانوں کو کیوں پہلے اس بات کا علم نہیں ہوا۔ کیا تھر میں کوئی حکومتی عہدیدار نہیں تھا کہ اس عظیم نقصان سے پہلے یہ بات سندھ حکومت کے بہرے کانوں تک پہنچاتے۔ مگر جب تھر کی حالت زار افریقہ کے دور افتادہ ویرانوں کی طرح ہوا، پھر اس المیہ کی خبر حکومت کو ملی۔ جب پانی سر سے اونچا ہوا اور ہلاکتیں سینکڑوں تک پہنچی اور پوری دُنیا میں پاکستان کو بدنام کیا گیا۔ وفاقی و صوبائی حکومت کو چاہیئے کہ جلد از جلد اور حتی الامکان امداد راشن اور ادویات تھر کے متاثرین تک پہنچائے اور اس معاملے میں غفلت برتنے والوں کا محاسبہ کرے۔......./169
11 مارچ 2014 - 20:30
News ID: 513131
مرکزی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ الحمدللہ بیدار شیعہ و سُنی قیادت اور عوام نے تمام سازشوں کا اتحاد و اتفاق کے ذریعے مُنہ توڑ جواب دیا۔ یہی وہ نکتہ ہے جس میں ملکی بقا اور سالمیت پوشیدہ ہے۔