ابنا: مصر کی الازہر یونیورسٹی کے پروفیسر شیخ تاج الدین الہلالی نے کہا ہے کہ تکفیری عناصر پورے عالم اسلام کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں اسلئے مسلمانوں میں اتحاد و یکجہتی کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیئے جانے کی ضرورت ہے۔انھوں نے ایران کے مقدس شہر قم میں ایک بیان میں تکفیری عناصر کو، وائرس اور بیکٹیریا کی مانند، جو دواؤں کے مقابلے میں بھی ٹکے رہتے ہیں، جراثیم قرار دیا جو مسلمانوں میں پیدا ہونے والی قربت کے مقابلے میں ڈٹے ہوئے ہیں اور ان کا نئی دواؤں کے ساتھ مقابلہ کئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی۔انھوں نے ایرانی و سعودی علماء کے درمیان گفتگو کی راہ ہموار کئے جانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر دیندار بننا ہے تو مزاحمت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا اور ایسے شاہوں کی پیروی سے باز آنا پڑیگا جو امریکہ اور مغرب کے حمایت یافتہ ہیں اور یہ کہ تکفیریوں کے مقابلے کیلئے عالم اسلام میں یکسوئی کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینا ہوگا۔ پروفیسر شیخ تاج الدین الہلالی نے مصر کے حالات کیطرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہر انقلاب کا تین رخی اصول، یعنی ولایت، برائۃ اور ایک خاص ہدف کا حامل ہونا ضروری ہے اور ایسی صورت میں نظام ولایت فقیہ کے تحت حکومت کے قیام کی ضرورت ہے کیونکہ اسی صورت میں قائم ہونے والی حکومت، حقیقی اسلام کی منظور نظر حکومت ہوگی، اور جو ولایت فقیہ کا عقیدہ نہیں رکھتا ہوگا وہ جاہلوں کی پیروی کرنے پر مجبور ہوگا۔ قابل ذکر ہے کہ مصر کی الازہر یونیورسٹی کے پروفیسر شیخ تاج الدین الہلالی نے اپنے دورۂ ایران میں قم المقدسہ میں مختلف مراجع عظام اور علمائے کرام سے بھی ملاقات کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
9 مارچ 2014 - 20:30
News ID: 512657
مصر کی الازہر یونیورسٹی کے پروفیسر شیخ تاج الدین الہلالی نے کہا ہے کہ تکفیری عناصر پورے عالم اسلام کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں اسلئے مسلمانوں میں اتحاد و یکجہتی کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیئے جانے کی ضرورت ہے