ابنا: القاعدہ سے وابستہ شدت پسند گروپس شام میں جاری خانہ جنگی سے قطع نظر جہاں قبضہ کرتے ہیں وہاں شریعت نافذ کر رہے ہیں، دریائے فرات کے کنارے پر واقع شمال وسطی شامی شہر الرقہ القاعدہ کی تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام داعش کے جنگجوؤں کے قبضے میں ہے جہاں انہوں نے عیسائی اقلیت کے ساتھ جزیہ کی وصولی کا ایک معاہدہ بھی کیا ہے، وہیں پر ایک شخص کو چوری کے الزام میں ہاتھ کاٹنے کی سزا بھی دی گئی۔ عربی ٹی وی چینل کے مطابق الرقہ شہر میں داعش کے خواتین ونگ الخنسائس بریگیڈ سے وابستہ جنگجوؤں نے شہر کے دو گرلز اسکولوں پر چھاپہ مار کر وہاں سے 15 سے 17 سال عمر کی دس لڑکیوں کو حراست میں لیا جنہیں بعد ازاں تنظیم کی جانب سے قائم کردہ ایک اسلامی عدالت میں پیش کیا گیا۔ لڑکیوں پرداعش کے وضع کردہ لباس کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا، عدالت میں پیشی کے بعد انہیں سرعام کوڑے مارے گئے۔ الرقہ کے ایک سماجی کارکن محمد الرقاوی نے میڈیا کو بتایا کہ "داعش" کی نام نہاد اسلامی عدالت میں بچیوں کو کئی گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا جہاں اْنہیں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ لڑکیوں سے کہا گیا کہ وہ ایسا برقع اوڑھیں جس سے ان کے جسم کا کوئی حصہ دکھائی نہ دے۔ جن لڑکیوں کو کوڑے مارے گئے انہیں کہا گیا تھا کہ وہ اپنے چہرے کو مکمل طور پر ڈھانپیں کیونکہ ان کی آنکھیں اور ابرو دکھائی دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ لڑکیوں کے سر کے بال بھی حجاب سے باہر نکلے دکھائی دے رہے تھے۔ الرقاوی کا کہنا تھا کہ الرقہ شہر میں اکثریت اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا شہریوں کی ہے لیکن القاعدہ کے عناصر جس نوعیت کی اسلامی تعلیمات نافذ کر رہے ہیں اس سے مقامی آبادی مانوس نہیں ہے۔ سماجی کارکن کا کہنا تھا کہ الرقہ ایک گنجان آباد شہر ہے۔ "داعش" کی جانب سے شہر میں اسلامی حکومت کے قیام کے اعلان کے بعد شہری سخت پریشان دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ دولت اسلامیہ عراق وشام کے جنگجو دن رات اسلحہ اٹھائے گلیوں اور سڑکوں میں سرے عام گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ کسی معمولی سی خلاف ورزی پر بھی مرد وخواتین کو حراست میں لے لیتے ہیں اور انہیں اپنی مرضی کی سزائیں دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسکولوں کی جن دس بچیوں کو کوڑے مارے گئے ان کے بارے میں ایک خبر یہ بھی ہے کہ انہیں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں کی سرجری کی گئی لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان بچیوں کی سرجری کی ضرورت کیوں محسوس ہو رہی تھی۔ درایں اثناء امریکی وزارت خارجہ نے شام میں شدت پسند تنظیم "داعش" کی جانب سے شہریوں پر اپنی مرضی کے قوانین مسلط کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔......./169
8 مارچ 2014 - 20:30
News ID: 512258
دمشق: القاعدہ سے وابستہ شدت پسند گروپس شام میں جاری خانہ جنگی سے قطع نظر جہاں قبضہ کرتے ہیں وہاں شریعت نافذ کر رہے ہیں، دریائے فرات کے کنارے پر واقع شمال وسطی شامی شہر الرقہ القاعدہ کی تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام داعش کے جنگجوؤں کے قبضے میں ہے.