8 مارچ 2014 - 20:30
مصر کی عبوری حکومت کی امداد بند کی جائے، اخوان المسلمین

برطانيہ ميں اخوان المسلمين کے رہنما محمد غانم کا کہنا تھا کہ سعودي عرب متحدہ عرب امارات اور بحرین ، مصر ميں فوجي حکام کي حمايت کرتے ہيں اور وہ کسي بھي طرح کي جمہوريت کے حق ميں نہيں ہيں۔

ابنا: اخوان المسلمين کے رہنما محمد غانم نے پريس ٹي وي سے اپنے انٹرويو ميں سعودي عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرين کي جانب سے اسلامي بيداري کي مخالفت کئے جانے اور ان ملکوں کي حکومتوں کي جانب سے اپنے شہريوں پر دباؤ اور گھٹن کاماحول بنائے رکھنے کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودي عرب ، متحدہ عرب امارات اور بحرين کي حکومتيں اپنے ملکوں ميں جمہوريت آزادي بيان اور انساني حقوق کے احترام کي قائل نہيں ہيں اسي لئے يہ حکومتيں مصر ميں فوجي بغاوت کي حمايت کرتي ہيں۔ مصر ميں بغاوت مخالف اتحاد کے رہنما نے بھي خليج فارس تعاون کونسل کے رکن ملکوں سے کہا کہ وہ مصرکي موجودہ عبوري حکومت کے لئےجس کو فوج کي حمايت حاصل ہے اپني مالي اور سياسي امداد بند کرديں۔ اس درميان مصر ميں اخوان المسلمين کي سياسي شاخ انصاف اور آزادي پارٹي کے ايک رکن نے کہا کہ سعودي عرب کے ذريعے اخوان المسلمين کو دہشت گرد تنظيم قرادينے کے فيصلے سے يہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ آل سعود حکومت کي بنياد کمزور پڑگئي ہے۔ مصر ميں انصاف اور آزادي پارٹي کے رکن ابراہيم السيد نے سنيچر کو اپنے بيان ميں اخوان المسلمين کو دہشت گرد قرار دينے کے سعودي عرب کے فيصلے پر تنقيد کرتے ہوئے کہا کہ سعودي عرب کي حکومت کي طرف سے جو سرکاري بيان جاري کيا گيا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ آل سعود خاندان ميں سنگين داخلي بحران پيدا ہوگيا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آل سعود کو اب ملک ميں اپني بادشاہت خطرے ميں پڑتي نظر رہي ہے اور اس کے لئے وہ کوشش کررہي ہے کہ ملک کے داخلي بحران اور ملک کي صورتحال پر عوام کي جانب سے ہونےوالي تنقيدوں کے پيش نظر رائے عامہ کے ذہنوں کو گمراہ کرے۔......./169