1 مارچ 2014 - 20:30
شام کا بحران، اقوام متحدہ کے خصوصي نمائندے کا انتباہ

شام کے امور ميں اقوام متحدہ اور عرب ليگ کے مشترکہ خصوصي نمائندے اخضر ابراہيمي نے شام ميں بحران کے شدت اختيار کرجانے کي بابت خبردار کرتے ہوئے کہاکہ شام کا بحران پورے علاقے کو اپني لپيٹ ميں لے سکتا ہے –

ابنا: شام کے امور ميں اقوام متحدہ اور عرب ليگ کے مشترکہ خصوصي نمائندے اخضر ابراہيمي نے شام ميں بحران کے شدت اختيار کرجانے کي بابت خبردار کرتے ہوئے کہاکہ شام کا بحران پورے علاقے کو اپني لپيٹ ميں لے سکتا ہے -انہوں نے کہا کہ شام کا بحران پورے علاقے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کےساتھ ساتھ پوري دنيا ميں ايک بڑا انساني الميہ بپا کرسکتا ہے –اخضرابراہيمي نے کہاکہ شام کا بحران جاري رہنے کي صورت ميں رواں سال کے اختتام تک شامي پناہ گزينوں کي تعداد چاليس لاکھ سے بھي زيادہ بڑھ جائے گي ايسي صورت ميں شام کا بحران صرف ايک داخلي جنگ نہيں کہلائےگا بلکہ يہ عالمي تنازعےميں تبديل ہوجائے گا اور پھر اس کا حل کرنا روزبروز دشوار ہوتا جائے گا -اب تک روس نے علاقے کے بعض ملکوں منجملہ اسلامي جمہوريہ ايران کے ساتھ مل کر يہ موقف اپنا رکھا ہے کہ شام کا بحران سياسي طريقے سے ہي حل کيا جائے اور شام کے بحران کو فوجي طريقے سے حل کرنے ميں کوئي مدد نہيں ملے گي -يہ ايسي حالت ميں ہے کہ اخضر ابراہيمي کا کہنا ہے کہ بعض مغربي اور عرب ممالک کا کہنا ہے کہ شام کا بحران فوجي طريقے سے حل کيا جاسکتا ہے -مبصرين کا کہنا ہے بعض مغربي اور عرب ملکوں کے اسي موقف کي بنا پر ہي شام سے متعلق جنيوا دو مذاکرات ناکام ہوئے ہيں - ان تمام باتوں کے باوجود جو چيز موجودہ صورتحال ميں نماياں ہے وہ يہ کہ اب بعض مغربي ممالک بھي شام کے بحران پر اپني تشويش کا اظہا کرنے لگے ہيں - جرمني کے سابق وزير خارجہ يوشيکافيشر نے شام کے موجودہ حالات پر اپني ناراضگي ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضرورت اس بات کي ہے کہ شام کا بحران صرف اور صرف مذاکرات کے ذريعے ہي حل کيا جائے -جرمني کے سابق وزير خارجہ نے کہا کہ علاقے ميں ايران کي اہميت، اس کي پوزيشن اور اس کے کردار کے پيش نظر شام سے متعلق جنيوا دو مذاکرات ميں ايران کو دعوت نہ دينا ايک بڑي غلطي تھي انہوں نے کہا کہ آئندہ اس سلسلے ميں ہونےوالي بات چيت ميں ايران کو ضرور دعوت دي جاني چاہئے -شام کے سبھي موثر فريقوں کي شرکت سے اس ملک کے بحران کو بات چيت کے ذريعے حل کرنے کے تعلق سے عالمي برادري اور دنيا کے مختلف ملکوں کے حکام کي تاکيد ايسي حالت ميں ہے کہ جنگ کے ميدان ميں شامي فوج نے دہشت گردوں کے خلاف بڑي کاميابياں حاصل کي ہے –......../169