ابنا: ايفاب نے جو دنيا ميں فوٹبال کے قوانين وضع کرتا ہے بيس مہينے تک اسلامي حجاب کے ساتھ فوٹبال مقابلوں کا تجرباتي دورہ مکمل کرلينے کے بعد يکم مارچ دوہزار چودہ کو باضابطہ طور پر اس بات کي اجازت دے دي ہے کہ فوٹبال کي باپردہ خاتون کھلاڑي فوٹبال ميچ کھيل سکتي ہيں -ايفاب کو پردے ميں رہ کر لڑکيوں کے فوٹبال کھيلنے ميں کوئي مضائقہ نظر نہيں آيا -ايفاب نے اپنے سرکولر ميں کہا ہے کہ اگر خاتون فوٹبال کھلاڑي کا اسکارف اس کي شرٹ سے جڑا ہوا نہ ہو اور خود کھلاڑي يا حريف کھلاڑي کے لئے کوئي خطرہ نہ ہو تو اسلامي حجاب يا اسکارف پہن کر فوٹبال ميچ کھيلا جاسکتا ہے - واضح رہے کہ اسلامي جمہوريہ ايران ان ملکوں ميں سے ايک ہے جس نے سب سے پہلے اسلامي حجاب ميں رہتے ہوئے خاتون فوٹبال کھلاڑيوں کے انٹرنيشل ميچوں ميں حصہ لينے کي وکالت کي تھي اورلندن اولمپيک دوہزار بارہ سےايران کي ويمنس فوٹبال ٹيم کوحجاب کے ساتھ کھيلنے سے منع کرديئے جانے کے بعد ايران نے فيفا ميں شکايت کي تھي - يہ واقعہ اس وقت پيش آيا تھا جب ايران کي ويمنس فوٹبال ٹيم اردن کي ٹيم سے ميچ کھيلنے کے لئے ميدان ميں اتري اور حجاب ميں رہنے کي وجہ سے ايران کي ٹيم کو ميچ کھيلنے سے روک ديا گيا تھا-اس واقعے کو مغربي ذرائع ابلاغ ميں کافي کوريج دي گئي تھي -......./169
1 مارچ 2014 - 20:30
News ID: 510457
انٹرنيشنل فوٹبال ايسوسي ايشن بورڈ ايفاب نے اپنے تازہ ترين اعلان ميں اس بات کي اجازت دے دي ہے کہ باپردہ خاتون فوٹبال کھلاڑي حجاب ميں رہتے ہوئے فوٹبال کے مقابلوں ميں حصہ لے سکتي ہيں -