ابنا: وائٹ ہاؤس سے جاری کیے گئے ایک مختصر بیان میں اوباما نے کہا کہ یوکرین میں روسی فوج کی نقل و حرکت کی اطلاعات پر مجھے گہری تشویش ہے۔انہوں نے کہا یہ روس کی جانب سے دیے گئے یوکرین کی خودمختیاری اور آزادی اور سرحدوں کی حفاظت کے وعدے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہو گی۔اوباما نے کہا یوکرین کی خودمختیاری کی خلاف ورزی سے شدید عدم استحکام پیدا ہوگا جو یوکرین، روس اور یورپ کے مفاد میں نہیں ہے۔اوباما نے کہا کہ امریکی نائب صدر جو بائڈن نے روس کے وزیر اعظم دمیتری میدویدو سے جعمہ کو بات کرکے وائٹ ہاؤس کی تشویش سے آگاہ کر دیا ہے۔اس سے قبل جعمہ کو ہی امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بھی روس پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ یوکرین کی خودمختاری کی خلاف ورزی کا ارادہ رکھتا ہے۔اس سے پہلے یوکرین کی عبوری حکومت کے وزیر داخلہ آرسین آوکوف نے روس پر ’مسلح چڑھائی‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ روسی ملٹری فورسز نے کریمیہ میں سیواستوپول ایئرپورٹ پر قبضہ کر لیا ہے۔تاہم بحیرۂ اسود میں موجود روسی بحری بیڑے نے اس بات سے انکار کیا تھا کہ اس واقعے میں روسی فوجی ملوث ہیں۔ادھر اقوام متحدہ میں روس کے سفیر ویٹالی چیورکین نے کہا ہے کہ کریمیہ میں کوئی بھی روسی فوجی نقل و حرکت روس اور یوکرین کے درمیان فوجی تعیناتی کے سمجھوتے کے تحت ہے۔......./169
28 فروری 2014 - 20:30
News ID: 510087
امریکی صدر براک اوباما نے یوکرین میں روسی فوج کی نقل و حرکت کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یوکرین میں کسی بھی فوجی مداخلت کے تئیں روس کو خبردار کیا ہے۔