25 فروری 2014 - 20:30
تیونس کے ۴۰۰ تکفیری دہشت گرد شام سے وطن واپس پہنچ گئے،برطانیہ میں ۴ تکفیری دہشت گرد گرفتار

تیونس کے وزیر داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ ۴۰۰ تیونسی باشندے جو شام میں دہشت گردی میں مصروف تھے وطن واپس لوٹ آئے ہیں اور ان پر حساس اداروں نے کڑی نظر رکھی ہوئی ہے۔

ابنا: تیونس کے وزیر داخلہ جناب لطفی بن جدو نے الحرہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں برسرپیکار ۴۰۰ تیونسی تکفیری دہشت گرد وطن واپس لوٹ آئے ہیں جنہیں حساس اداروں نے زیر نظر رکھا ہوا ہے۔ تیونس کے وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ ملک کی سیکورٹی فورسز نے تقریبا ۸۰۰ تیونسی باشندوں کو شام جانے سے روک دیا ہے۔ یہ افراد جہاد کی غرض سے شام جانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ جناب لطفی بن جدو نے کہا:"ہمیں شام سے وطن واپس لوٹنے والے افراد کی تعداد کا دقیق علم نہیں لیکن ایک محتاطانہ اندازے کے مطابق ان کی تعداد ۴۰۰ کے لگ بھگ ہے۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم ان تمام افراد کو گرفتار نہیں کر سکے کیونکہ اس بارے میں کوئی ایسا قانون موجود نہیں ہے لیکن ہمارے حساس اداروں نے ان پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے اور ان تمام افراد کی فایل بنا رکھی ہے۔ یہ افراد اب معمولی افراد نہیں بلکہ وہ دہشت گردانہ کاروائیوں کی مکمل ٹریننگ لے چکے ہیں"۔

دوسری طرف برطانوی نشریاتی ادارے اسکائی نیوز نے اعلان کیا ہے کہ برطانوی پلیس نے آج منگل کے دن ایسے چار تکفیری دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے جو شام میں سرگرم مسلح دہشت گردوں سے رابطے میں تھے۔ موصولہ رپورٹس کے مطابق ان گرفتار ہونے والے افراد میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔ یہ تمام افراد برطانیہ کے مرکزی حصوں کے رہائشی بتائے جاتے ہیں۔ برطانیہ کے سیکورٹی اور انٹیلی جنس ادارے حال ہی میں حکومت کو خبردار کر چکے ہیں کہ شام میں سرگرم عمل برطانوی تکفیری دہشت گرد وطن واپس لوٹ سکتے ہیں۔ برطانوی حکومت کو یہ تشویش لاحق ہے چونکہ یہ افراد شام میں پوری طرح فوجی ٹریننگ حاصل کر چکے ہیں اور دہشت گردانہ کاروائیوں کا اچھا خاصہ تجربہ بھی کما چکے ہیں لہذا وطن واپس لوٹنے کے بعد قومی سلامتی کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ گذشتہ چند سالوں کے دوران برطانیہ نے اپنے کئی ایسے شہریوں کی شہریت بھی باطل کر دی ہے جو شام گئے ہوئے ہیں۔ اسی طرح تقریبا ۱۰ برطانوی تکفیری دہشت گرد جو شام سے وطن واپس لوٹے تھے سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہو چکے ہیں۔

.......

/169