18 فروری 2014 - 20:30
ايران اور پانچ جمع ايک کے ويانا مذاکرات

ويانا ميں ايران اور پانچ جمع ايک کے درميان ايٹمي مذاکرات کا سلسلہ بدھ کو بھي جاري رہا -

ابنا‍: ايران اور چھے بڑي طاقتوں کے گروپ پانچ جمع ايک کے درميان جوہري مذاکرات کا ايک اور دور آسٹريا کے شہر ويانا ميں قائم اقوام متحدہ کے يورپي ہيڈکوراٹر ميں شروع ہوگيا ہے-   ايران اور پانچ جمع ايک کے درميان تين روزہ مذاکرات منگل کو شروع ہوئے اور پہلے دن، فريقين کے  درميان بات چيت کے دو دور ہوئے اور بدھ کي صبح سے مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے -    منگل کو مذاکرات کے پہلے دور  ميں ايران کے وفد کي قيادت  وزير خارجہ محمد جواد ظريف اور پانچ جمع ايک کے مذاکرات کاروں کي سربراہي يورپي يونين کے امور خارجہ کي انچارج کيتھرين ايشٹن نے  کي تھي,  جبکہ دوسرے دور کے مذاکرات ميں ايراني وفد نے ايران کے نائب وزير خارجہ سيد عباس عراقچي کي قيادت ميں حصہ ليا اور پانچ جمع ايک کي قيادت  يورپي يونين کے امورخارجہ کي ڈپٹي انچارج ہيلگا اشمد نے کي  -    منگل کي رات مذاکرات کے اختتام پر ايران کے سينيئر ايٹمي مذاکرات کار سيد عباس عراقچي اور امريکا کي ايٹمي مذاکرات کار اور نائب وزير خارجہ ونڈي شرمين کے درميان ملاقات بھي انجام پائي -    ايران اور پانچ جمع ايک کے درميان مذاکرات جمعرات کو بھي جاري رہنے کي توقع ظاہر کي جارہي ہے-وزير خارجہ محمد جواد ظريف اور يورپي يونين کے امورخارجہ کي انچارج  نے مذاکرات کے پہلے دن اپني ملاقات ميں دو طرفہ اور کثير فريقي ميٹنگوں کے انعقاد پر اتفاق کيا تھا-اس ملاقات ميں محترمہ کيتھرين ايشٹن نے ايٹمي ورکنگ گروپ کے قيام اور پابنديوں کے خاتمے کے بارے ميں تجاويز کا تبادلہ بھي کيا- جس کے بعد فريقين نے  ايسے بنيادي خطوط کو واضح کيا جن کي بنياد پر ايران کے ايٹمي معاملے کو دائمي طور پر حل کرنے کا راستہ ہموار ہوسکتا ہے-ليکن بعض ذيلي معاملات بھي مذاکرات کے ماحول پر اثر انداز ہوسکتے  ہيں  اور بعض خبر رساں ايجنسيوں نے امريکي حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ مذاکرات کے دوران ايران کے بيلسٹک ميزائيلوں اور انساني حقوق کا معاملہ بھي زير بحث آسکتا ہے-البتہ ايران کے سينيئر ايٹمي مذاکرات کار عباس عراقچي پہلے ہي واضح کرچکے ہيں کہ مذاکرات صرف اور صرف ايران کے ايٹمي پروگرام کے فني معاملات کے بارے ميں ہونگے جبکہ ايران کي ايٹمي سرگرمياں بند کرنے  يا انہيں معطل کرنے کا معاملہ مذاکرات کے ايجنڈے ميں شامل نہيں ہے-  بہرحال امريکي موقف سے قطع نظر، جس کا مقصد امريکي رائے عامہ کو متاثر کرنے کے سوا اور کچھ نہيں ہے، يہ کہا جاسکتا ہے کہ مذاکرات کے دوران ملت ايران کا اعتماد حاصل کرنے کي غرض سے يورپ اور خاص طور سے امريکہ کو مزيد لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا-

.......

/169