ابنا: ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان محترمہ مرضیہ افخم نے آج ملکی و غیر ملکی نامہ نگاروں کے ساتھ ہفتہ وار پریس بریفنگ میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے آج کے مذاکرات ویانا میں ایران کے وزیر خارجہ اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کی شرکت سے شروع ہوگئے ہیں، کہا کہ مذاکرات کے اس مرحلے کا پہلا قدم، مذاکرات اور سمجھوتوں کے لئے دائرۂکار منظم کرناہے تاکہ طویل اور دشوار و پیچیدہ راستہ، دقت و ہوشیاری سے طے پائے۔ مرضیہ افخم نے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات ميں ایران کے بیلسٹک میزائیلوں اور اراک میں بھاری پانی کا ری ایکٹر بند کئے جانے جیسے ممکنہ مسائل پیش کئے جانے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات، محض ایٹمی مسائل کے بارے میں ہوں گے اور فوجی مسائل کی، ان مذاکرات کے دائرے میں کوئی جگہ نہیں ہے ۔ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ مغربی ممالک ایٹمی مذاکرات میں دیگر مسائل کو بھی پیش کرنے میں کوشاں ہیں کہا کہ یہ بات قابل قبول نہیں ہے اور ایران کے ایٹمی حقوق کا، معین شدہ دائرے ميں جائزہ لیاجانا چاہیئے ۔ محترمہ افخم نے پاکستان کی سرحدوں ميں ایرانی محافظین کے اغوا اور اس سلسلے میں وزارت خارجہ کے اقدامات کے بارے میں کہا کہ اسلامی جمہوریۂ ایران کی جانب سے پاکستانی حکام کو احتجاجی یاد داشت پیش کردی گئي ہے اور تہران، سرحدی علاقوں پر کنٹرول کے لئے حکومت پاکستان سے، ٹھوس قدم اٹھائے جانے کا خواہاں ہے۔
.......
/169