ابنا: ایران کی مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے آج تہران میں اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی پارلیمانی یونین کے نویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد اور عالمی سامراج، عالم اسلام کے ساتھ دشمنی اور دھمکی کی روش کے ذریعے ایک ہی راستے پرگامزن ہيں اور افغانستان ، عراق ، پاکستان اور شام کے حالات، اس بات کا واضح اور بین ثبوت ہيں۔ ڈاکٹر لاریجانی نے عالم اسلام میں موجودہ انتہا پسندی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دشمنان اسلام اور استکباری طاقتیں ان دنوں صہیونی حکومت کے حوصلے بڑھانے اور مزاحمت کو کمزور کرنے کے لئے تکفیریت اور تفرقہ انگیزی کو ہتھکنڈہ بنا کر مسلمان قوموں کی قوت و توانائی ختم کرنے کے درپئے ہیں ۔ اسلامی تعاون تنظیم کے ممبر ممالک کی بین پارلیمانی یونین کے مرحلے وار سربراہ نے کہا کہ خوش قسمتی سے حالیہ برسوں میں اسلامی بیداری کے سبب اسلامی ملکوں میں گراں قدر جمہوری تحریکیں وجود میں آئی ہیں کہ جن سے اسلامی قوموں کی آزادی و استقلال میں پائيداری واستقامت کو ضمانت فراہم ہوئی ہے اور مسلم امہ میں اتحاد و یکجہتی میں اضافہ ہوا ہے۔ڈاکٹر لاریجانی نے، علاقے کی مظلوم قوموں کی رہائی کے لئے اسلامی بیداری سے متعلق رہبر انقلاب اسلامی اور ملت ایران کی جانب سے دفاع جاری رہنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کے سلسلے میں امریکہ کے جھوٹے امن پسندانہ پروپگنڈے کا مقصد، ملت فلسطین کے حقوق کو پامال کرنے کے سوا اور کچھ نہيں ہے اور اسی سبب سے فلسطین کا راستہ مزاحمت اور استقامت ميں ہے۔ ایران کی مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر نے ایران کے ایٹمی مسئلے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس امر پر تاکید کے ساتھ کہ ایران ہوشیاری کے ساتھ ایٹمی مذاکرات کا جائزہ لے رہا ہے کہا کہ امریکی یہ بات اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن ہے لیکن وہ مکرو فریب پر اتر آئے ہیں۔
.......
/169