حکومت طالبان سے مسلسل امن کی بھیک مانگ رہی ہے تو طالبان بھی اسی تسلسل کے ساتھ بیگناہ شہریوں، سکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کراچی میں گذشتہ روز ایسے وقت پر حملہ کیا گیا جب وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان خود شہر قائد میں موجود تھے، یہ حملہ بذات خود وزیر داخلہ کیلئے ایک پیغام تھا جو خوف کے مارے کچھ بیان کرنے سے بھی قاصر دکھائی دیتے ہیں۔ جب سے وزیراعظم نواز شریف نے دوبارہ امن کی فاختہ اڑانے کا اعلان کیا ہے، اس وقت سے لیکر اب تک طالبان کی جانب سے اٹھارہ حملے ہوچکے ہیں، جن میں سے نو صرف پشاور میں کیے گئے ہیں، ان 9 حملوں میں سے 6 خودکش حملے ہیں۔ مذاکرات میں کیا ہو رہا ہے، کیا نہیں کسی کو کچھ پتہ نہیں، پوری قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا رہی ہے، میڈیا پر طالبان کے حامیوں کی یلغار ہے، جب کہ ان کی بے تکی شریعت کا دفاع کرنے کیلئے کوئی حکومتی نمائندہ کسی ٹاک شوز میں نظر نہیں آتا، ایسے میں طالبانی سوچ کو بڑے احسن طریقہ سے میڈیا کے ذریعے پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ اینکر پرسنز کے نام جب سے طالبان کی جانب سے ہٹ لسٹ پر آئے ہیں، وہ سب بھی محتاط ہوگئے ہیں اور انہیں اپنی جان کے لالے پڑ گئے ہیں۔ اسی طرح کئی اخبارات نے طالبان کیخلاف خبریں چھاپنا ہی بند کر دیں ہیں۔مذاکرات کی حامی جماعتیں تسلسل کے ساتھ طالبان کے حملوں کو بیرون ملک کی مداخلت اور سازش قرار دے رہی ہیں لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات سے امن قائم ہوسکتا ہے اور یہ حملے باہر کی قوتیں ہی کرا رہی ہیں تو پھر کیوں نہ ان قوتوں سے ہی مذاکرات کیے جائیں، پھر حکومت کا طالبان کو گلے لگانے اور ہمنوا بنانے کا کیا مقصد ہوسکتا ہے۔ امیر جماعت اسلامی سید منور حسن کا بیان بھی قابل غور ہے کہ جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اگر خدانخواستہ طالبان سے مذاکرات سو بار بھی ناکام ہوں تو بھی ان کا متبادل آپریشن نہیں ہے، اسی طرح دیگر جماعتیں ہیں جو طالبان کی مذمت کرنے کے بجائے پاک فوج کو وزیرستان میں آپریشن بند کرنے کا کہہ رہی ہیں۔ لیکن دنیا حیران ہے کہ یہ آپریشن کہاں ہو رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت حکومت کی جانب سے طالبان کو یکطرفہ کارروائیوں کرنے کی مکمل کھلی چھوٹ دیدی گئی ہے، جبکہ معصوم انسانوں کا دفاع کرنے والا کوئی نہیں۔طالبان سے مذاکرات کرنے والی کمیٹیاں اس وقت کیا کر رہی ہیں، طالبان کی شرائط کیا ہیں، کسی کو کچھ پتہ نہیں، حتٰی گورنر خیبر پختونخوا شوکت اللہ جو فاٹا کے چیف ایگزیکٹو ہیں، وہ بھی ان مذاکرات سے مکمل طور پر لاعلم ہیں۔ لوگ حیران ہیں کہ یہ کیسے مذاکرات ہیں کہ ایک طرف یکطرف حملے جاری ہیں، معصوم انسانوں کا خون بہایا جا رہا ہے تو دوسری جانب عوام کے جان و مال کی محافظ حکومت فقط تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے، ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا یا پھر وہ کچھ کرنا ہی نہیں چاہ رہی۔ دوسری جانب پارلیمنٹ میں موجود اپوزیشن جماعتیں ان مذاکرات کو طالبان کے طالبان کے ساتھ مذاکرات تو قرار دے رہی ہیں، لیکن عملی اقدامات اٹھانے سے وہ بھی قاصر دکھائی دے رہی ہیں۔عمران خان کے اس بیان نے پاکستان کے عوام کو مزید پریشان کردیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وزیراعظم سے ان کی ملاقات ہوئی تھی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ طالبان کے خلاف فوجی آپریشن کی کامیابی کے فقط چالیس فی صد امکانات ہیں۔ یہ خود ریاست پاکستان کیلئے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ ایک طرف آپ ایٹمی قوت ہیں تو دوسری جانب آپ داخلی محاذ پر اتنے کمزور پڑ گئے ہیں کہ ایک گمراہ گروہ کھڑا ہوگیا ہے، جو آپ کی رٹ اور تمام قوانین کو چیلنج کیے ہوئے ہے، اب اگر صورتحال ایسی ہی ہے تو پھر کسی بھی وقت بیرونی دشمن پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر حملہ آور ہوسکتا ہے یا پھر اقوام متحدہ میں اس تاثر کو ابھار سکتا ہے کہ پاکستان میں غیر ریاستی عناصر اس حد تک مضبوط ہوگئے ہیں کہ کسی بھی وقت ایٹمی اثاثوں پر قابض ہوسکتے ہیں، جس سے دنیا کا امن خطرے میں پڑسکتا ہے۔ غیر ملکی میڈیا میں پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے متعلق چھپنے والی خبریں بھی اسی چیز کی نشاندہی کر رہی ہیں۔آج کل پیپلزپارٹی کے اعتزاز احسن سینٹ میں کافی متحرک دکھائی رہے ہیں، ان کی سینیٹ میں کی جانیوالی بحثوں کو اٹھا کر دیکھا جائے تو ایک بات واضح ہے کہ پیپلزپارٹی اب ایک راستہ اپنا چاہتی ہے، لیکن یہ نہیں معلوم کہ اسے بھی حکومت کی طرح مزید کتنے خودکش حملوں اور بم دھماکوں کی ضرورت ہے، جس کے بعد انہیں یقین آئے گا کہ طالبان دور حاضر کے خوارج ہیں۔ اعتزاز احسن کا سینیٹ اجلاس میں یہ کہنا حقیقت پسندی کا آئینہ دار ہے کہ مذاکرات کے اصل فریقین کو مذاکراتی کمیٹیوں شامل ہی نہیں کیا گیا، اہل تشیع سمیت دیگر فریقین کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ اہل سنت کی تمام بڑی جماعتوں نے طالبان سے مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے اور حکومت سے آپریشن کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان عوامی تحریک کے طالبان کے خلاف فوجی آپریشن کے مطالبے کے بعد اب فقط دیوبند جماعتیں ہی باقی رہ گئی ہیں جو طالبان کو اخلاقی جواز فراہم کیے ہوئے ہیں۔ اب مکتب دیوبند کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں یا طالبان کے ساتھ، درمیانی اور بیچ کا کوئی راستہ اب نہیں بچا۔ اگر مکتب دیوبند کی جماعتیں سمجھتی ہیں کہ طالبان حق پر ہیں تو انہیں کھل کر ان کا ساتھ دینا چاہیے، ورنہ ان کیخلاف ریاست کی حمایت کرنا ہوگی۔ سیز فائر کے باوجود طالبان کے حملوں نے اب مذاکرات کا پول کھول دیا ہے۔تحریک طالبان کی چھتری تلے اس وقت کئی گروپ کام کر رہے ہیں، کئی حملوں کی ذمہ داری خود تحریک طالبان قبول کر لیتی ہے تو باقی ہونے والے حملوں کی دیگر دھڑے ذمہ داری قبول کرلیتے ہیں۔ ایک خاص حکمت عملی کے تحت یہ باغی گروہ اپنے کاموں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں تحریک طالبان کے بطن سے ایک نیا گروپ سامنے آیا ہے جو احرارالہند کے نام سے کام کر رہا ہے۔ اس گروہ نے اعلان کیا ہے کہ طالبان مصلحت اور قبائلی علاقوں کی آزادی کیلئے مذاکرات کی میز پر بیٹھ گئے ہیں جبکہ ہم ملک کے چپے چپے پر شریعت کے نفاذ تک اپنی فدائی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ احرارالہند نے اعلان کیا ہے کہ طالبان ان کے بھائی ہیں، تاہم وہ شریعت کے نفاذ تک کسی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھیں گے۔ اس گروہ نے اعلان کیا ہے کہ جب تک ملک میں مکمل طور پر شریعت نفافذ نہیں ہوجاتی وہ اپنے حملے جاری رکھیں گے۔ ایک بیان میں اس گروہ نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگر طالبان نے سیز فائر کیا تو اس کے وہ پابند نہیں ہونگے۔ ان اعلانات کے باوجود حکومتی خاموشی اور بوکھلاہٹ سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس وقت حکومتی اور طالبان کمیٹیاں شدید دباؤ میں ہیں اور ان کیلئے کام کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ گذشتہ روز کراچی میں حملہ اور طالبان کی جانب سے ذمہ داری کی قبولیت کے بعد دونوں کمیٹیوں پر عوامی پریشر بڑھ گیا ہے۔ آئندہ چند روز میں حکومت کیا فیصلہ کرتی، ہے پوری قوم کی نگاہیں وزیراعظم کے اعلان پر مرکوز ہیں۔تحریر: مہدی خان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
14 فروری 2014 - 20:30
News ID: 506243
حال ہی میں تحریک طالبان کے بطن سے ایک نیا گروپ سامنے آیا ہے، جو احرارالہند کے نام سے کام کر رہا ہے۔ اس گروہ نے اعلان کیا ہے کہ طالبان مصلحت اور قبائلی علاقوں کی آزادی کیلئے مذاکرات کی میز پر بیٹھ گئے ہیں، جبکہ ہم اس ملک کے چپے چپے پر شریعت کے نفاذ تک اپنی فدائی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ احرارالہند نے اعلان کیا ہے کہ طالبان ان کے بھائی ہیں، تاہم وہ شریعت کے نفاذ تک کسی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھیں گے۔ اس گروہ نے اعلان کیا ہے کہ جب تک ملک میں مکمل طور پر شریعت نفافذ نہیں ہوجاتی وہ اپنے حملے جاری رکھیں گے۔