ابنا: پرس ٹی وی کو لکھے ایک مضمون میں معروف امریکی تجزیہ نگار فنائن کنگہام نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے بہت سے وجوہات ہے جس سے سعودی حکومت ایران سے خوفزدہ اور نفرت کرتی ہے کیونکہ ایران کا پورے خطے میں اثرو رسوخ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔کنہگام کے مطابق1979کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران کے خلاف سعودی نفرت میں اضافہ ہو گیا کیونکہ ایران کا اسلامی انقلاب خطے کی تمام شاہی حکومتوں کے لئے خطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا ریاض ایران کی جمہوریت کو اپنے وجود کے لئے سب سے بڑا خطرہ تصور کرتی ہے۔تجزیہ نگار اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ ایران کے بڑھتے اثرو رسوخ سے اپنے وجود کو بچانے کے لئے سعودی عرب کی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ایران کے وسیع توانائی کے زخائر اور معاشی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے کنہگام کا کہنا تھا کہ سعودی عرب چاہتا ہے کہ ایران کو اپنے قدرتی زخائرکی دولت سے فائدہ اٹھانے سے روکا جائے۔تجزیہ نگار لکھتے ہیں کہ سعودی وہابی حکومت ایران سے نفرت کرتی ہے جو خطے اور دنیا میں شیعوں کا مرکز ہے۔سعودی عرب کے حمایت یافتہ دہشتگردوں کے شام میں شیعہ اور دیگر اقلیتوں پرہو رہے مظالم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہےکہ ریاض، ایران سے خوفزدہ اور نفرت کرتا ہے اور یہ اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ شام اور ایران کے دیگر اتحادیوں کے خلاف ریاض نے خفیہ جنگ چھیڑ رکھی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
6 فروری 2014 - 20:30
News ID: 503837
ایک امریکی تجزیہ نگار نے کہا ہے کہ مشرقی وسطی میں ایران کے بڑھتے سیاسی اور اقتصادی اثرو رسوخ سے آل سعود حکومت خوفزدہ ہے۔