4 فروری 2014 - 20:30
ایک لاکھ دس ہزار سے زیادہ خارجی دہشت گرد شام میں بر سر پیکار

تقریبا ایک لاکھ دس ہزار سے زیادہ صرف مشرق وسطی سے شام میں داخل ہو ئے ہیں اور اس ملک کی حکومت کے ساتھ بر سر پیکار ہیں

ابنا: افکار پریس ٹیونس کے روز نامہ الشروق نے شام میں خارجی دہشت گردوں کی تعداد کے بارے میں مغربی ممالک کے اعداد و شمار اور تحقیقات کے ذرائع سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے: تقریبا ایک لاکھ دس ہزار سے زیادہ صرف مشرق وسطی سے شام میں داخل ہو ئے ہیں اور اس ملک کی حکومت کے ساتھ بر سر پیکار ہیںعالمی اردو خبررساں ادارے "نیوزنور" کے مطابق الشروق نے اپنی اس رپورٹ میں دس ملکوں کا ذکر کیا ہے کہ جن کے دہشت گرد شام میں ہیں ان کے اور ان کے مقتولین گمشدگان اور اسی طرح ان کی عورتوں کی تعداد کے بارے میں جزئیات کو ذکر کیا ہے۔الشروق نے آگے چل کر لکھا ہے : چچینیا کے سب سے زیادہ دہشت گرد شام میں ہیں جن کی تعداد تقریبا چودہ ہزار افراد ہیں اور اب تک جن میں سے تین ہزار چھ سو اکہتر افراد قتل ہو ئے ہیں اور ایک ہزار تین سو ستانوے افراد گمشدگان کی فہرست میں ہیںاس گذارش کی بنیاد پر سعودی عربیہ بارہ ہزار دہشت گردوں کے ساتھ اس لسٹ میں دوسرے نمبر پر ہے کہ جن میں سے اب تک تین ہزار آٹھ سو بہتر افراد قتل ہو چکے ہیں اور دو ہزار چھ سو نواسی افراد کے نام گمشدگان کی فہرست میں دکھائی دیتے ہیںاسی طرح عراقی دہشت گرد کی تعداد تقریبا گیارہ ہزار ہے اور شام میں خارجی جنگ جو افراد کے اعتبار سے اس کا تیسرا نمبر ہے اس کے بعد جو ترتیب لبنان اور ترکیہ کے نو ہزار اور پانچ ہزار چھ سو دہشت گرد جو چوتھے اور پانچویں نمبر پر ہیںچھٹے سے دسویں نمبر پر بھی ترتیب وار یہ ملک ہیں فلسطین پانچ ہزار دہشت گرد لیبیا چار ہزار چار سو دہشت گرد ٹیونس کے چار ہزار  دہشت گرد ہیں مصر کے دو ہزار چھ سو اور اردن کے دو ہزار چار سو دہشت گرداس رپورٹ میں افغانستانی پاکستانی یمنی مغربی ممالک اور دوسرے ملکوں کی تعداد نہیں بتائی گئی ہے صرف ان دس ملکوں کا ذکر کیا گیا ہے جن میں  سےسب سے زیادہ دہشت گرد شام میں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲