ابنا: سعودي وليعہداور وزير خارجہ سے ملاقات، حازم الببلاوي کے ايک روزہ دورہ رياض کا اہم ترين پروگرام بتايا گيا ہے -رپورٹوں ميں بتايا گيا ہے کہ سعودي وليعہد نے مصر ميں فوج کي لائي ہوئي عبوري حکومت کے وزير اعظم حازم الببلاوي سے ملاقات ميں قاہرہ اور رياض کے درميان تمام شعبوں ميں تعاون ميں زيادہ سے زيادہ فروغ کو ضروري قرار ديا ہے -
مصر ميں جب سے فوج نے منتخب حکومت کا تختہ الٹا ہے، اور فوج کي لائي ہوئي انقلاب مخالف عبوري حکومت برسراقتدار آئي ہے، قاہرہ اور رياض کے درميان سرکاري وفود کي آمد ورفت ، تسلسل کے ساتھ جاري ہے ليکن حازم الببلاوي کا دورہ اس لحاظ سے اہميت کا حامل ہے کہ ، مصر ميں سياسي کشيدگي عروج پر ہے اور عبوري حکومت کو سخت اقتصادي مشکلات کا سامنا ہے -
سعودي حکومت نے ابھي چند ہي روز قبل قاہرہ کے لئے پانچ ارب ڈالر کي نئي امداد کا اعلان کيا ہے - اس سے پہلے جب مصر ميں عبوري حکومت نے اخوان المسلمين کو دہشتگرد قرار ديا تھا، تو رياض نے قاہرہ کے لئے نوارب ڈالر کي امداد کا اعلان کيا تھا جبکہ جولائي دو ہزار تيرہ ميں منتخب صدر محمد مرسي کا تختہ الٹے جانے کے بعد سعودي عرب اور متحدہ عرب امارات نے فوج کي لائي ہوئي عبوري حکومت کو فوري طور پر بارہ ارب ڈالر کي امداد دينے کا اعلان کيا تھا - بنابريں سعودي عرب نہ صرف يہ کہ مصر کے فوجيوں اور انقلاب مخالف عبوري حکومت کا سب سے بڑا حامي ہے بلکہ مصر کے فوجيوں کا سب سے زيادہ قابل اعتماد پشت پناہ بھي سمجھا جاتا ہے -
مصر ميں انقلاب کامياب ہونے کے بعد سے ہي ، سعودي حکومت ، خطے کي ان حکومتوں ميں شامل رہي ہے جو بہت قريب سے مصر کے حالات پر نظر رکھے ہوئے تھيں-جب مصر کے صدارتي انتخابات ميں محمد مرسي اخوان المسلمين کے اميدوار کي حيثيت سے سامنے آئے تو آل سعودي کي حکومت ان حکومتوں ميں شامل تھي جو خفيہ طور پر فوج کو ورغلا نے اور سلفيوں سے کام لے کے اخوان المسلمين کے راستے ميں مشکلات کھڑي کررہي تھيں -ظاہر ہے کہ محمد مرسي کا اخوان المسلمين کے نمائندے کي حيثيت سے مصر کا صدر بننا رياض کے لئے کسي طوربھي گوارا نہيں تھا لہٍذا صدر مرسي اور اخوان المسلمين کے خلاف آل سعود کي سازشوں کا سلسلہ جاري رہا جو سرانجام مصر ميں فوجي بغاوت، اور منتخب صدر کي معزولي پر منتج ہوا جس کے بعد رياض مصر کے سياسي ميدان کے ايک اہم بازيگر ميں تبديل ہوگيا-
رياض کي اقتصادي امداد مصر ميں فوج کي لائي ہوئي عبوري حکومت کے لئے جتني اہم ہے، مصر ميں انقلاب کا سبوتاژ ہوجانا اور فوج کي سربراہي ميں ماضي کے آمرانہ نظام کي واپسي ، رياض کے لئے اس سے کم اہميت نہيں رکھتي - يہي وجہ ہے کہ سعودي حکومت کي پوري کوشش ہے کہ جنرل عبدالفتاح فتاح السيسي ہر حال ميں مصر کے ايوان صدر ميں پہنچ جائيں اور فوج ايک بار پھر مصر ميں اقتدار کا بنيادي مرکز بن جائے-
مصر ميں ان دنوں فوج اور سابق آمر حکومت کي باقيات آئندہ صدارتي انتخابات ميں جنرل عبدالفتاح السيسي کي کاميابي کے لئے حالات سازگار بنانے ميں دل و جان سے لگي ہوئي ہيں اور انہيں رياض کا ہر قسم کا تعاون حاصل ہے -ظاہر ہے کہ اس وقت مصر کي فوج اور آل سعود کي حکومت ، دونوں کو ايک دوسرے کي ضرورت ہے - اگر مصر ميں سابق آمرانہ دور کے احيا کے لئے آل سعودي کي نگاہيں مصر کي فوج پر مرکوز ہيں تو صدارتي اليکشکن کے ذريعے جنرل عبدالفتاح کو ايوان صدر تک پہنچانے کے لئے مصر کي فوج کا انحصار بھي سعودي عرب کي اقتصادي امداد پر ہے -
.......
/169