ابنا: یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے لئے ماضی میں بھی مختلف حل سامنے لائے جاتے رہے ہیں کبھی پاک بھارت مذاکرات، کبھی بیک ڈور ڈپلومیسی، کبھی بیرونی اور عالمی طاقتوں کی مداخلت یا ثالثی، کبھی تقسیم کشمیر، کبھی چار نکاتی فارمولے، کبھی عوامی، ثقافتی اور اسپورٹس دوستی اور دیگر انداز میں مسئلہ کشمیر حل کرنے کے راستے تلاش کئے جاتے رہے لیکن اس وقت تک کوئی حل قابل قبول اور قابل نفاذ نہیں ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک پاکستان اور ہندوستان کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کے تیسرے فریق یعنی کشمیری عوام کو اس عمل میں شامل کرکے کلیدی کردار نہیں دیا جاتا کیونکہ کشمیری عوام کی رائے ہی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو یک طرفہ اور جانبدارانہ پالیسیاں اور جارحانہ طرز عمل اختیار کرنے سے گریز کرتے ہوئے سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آنا چاہیئے اور مذاکرات سے پہلے کشمیر میں امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنا کر مذاکرات کے لئے ماحول کو سازگار بنانا چاہیئے، مقبوضہ کشمیر میں اپنی افواج میں کمی کرنی چاہیئے، تشدد کا راستہ ترک کرنا چاہیئے تاکہ دنیا پر واضح ہوجائے کہ بھارت مذاکرات کے لئے سنجیدہ ہے۔ اس ماحول کے بعد مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں گے اور کوئی قابل عمل حل نکل سکے گا۔
علامہ ساجد علی نقوی نے کہا کہ پاکستانی حکمرانوں کو بھی چاہیئے کہ وہ پاکستانی عوام کے موقف اور جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے پالیسیاں تشکیل دیں، قومی موقف سے روگردانی اور یو ٹرن پالیسیوں سے کشمیری عوام کی قربانیوں کو رائیگاں نہ ہونے دیں، کشمیر کا فیصلہ کشمیری عوام سے کرائیں اور مذاکرات کے عمل میں تمام کشمیری جماعتوں اور طبقات کو نمائندگی دیں، کسی ایک گروہ یا طبقے کی حمایت کرکے کشمیر کی تحریک آزادی کو منتشر اور کمزور نہ کریں اور عالمی سطح پر کشمیر کا مقدمہ پیش کرکے عالمی اداروں کو قائل کریں کہ وہ بھارت کو مسئلہ کشمیر حل کرنے پر مجبور کریں۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ حسب سابق اس سال بھی غیور پاکستانی عوام 5 فروری کے موقع پر مکمل جوش و جذبے کے ساتھ اپنے پروگراموں، مجالس، محافل، ریلیوں، مظاہروں اور احتجاجی پروگراموں میں کشمیری عوام کے ساتھ مکمل ہمدردی اور اظہار یکجہتی کریں گے اور انہیں اپنے مکمل تعاون کا یقین دلائیں گے اور امت مسلمہ کو مسئلہ کشمیر کے حقائق اور حل کی طرف متوجہ کریں گے۔
.......
/169