ابنا: ایران کے وزیر خارجہ نے میونیخ کانفرنس کے موقع پر ایران سے متعلق ایک خصوصی اجلاس میں کہا کہ ایرانی عوام، امریکہ سے بہت زیادہ بدظن ہیں اور اگر امریکہ، ایرانی عوام کی واشنگٹن کی نسبت بے اعتمادی ختم کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو تعلقات کی بہتری کی کافی امیدیں لگائی جاسکتی ہیں۔محمد جواد ظریف نے کہا کہ میّسر ہونے والے مواقع بہت زیادہ قیمتی ہیں جن سے بھرپور استفادہ کئے جانے کی ضرورت ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ بہت بڑی غلطی ہوگی اگر کوئی یہ سوچے کہ ایران، پابندیوں کی بناء پر مذاکرات کے عمل میں شامل ہوا ہے۔انھوں نے کہا کہ جب ایران کے خلاف پابندیاں لگیں تو تہران کے پاس دو سو سینٹری فیوجز موجود تھیں مگر دس برسوں کی پابندیوں کے بعد اب اس وقت ایران کے پاس انّیس ہزار سنینٹری فیو جز موجود ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے یہ بات تاکید کے ساتھ کہی کہ تہران، ایک دوسرے کے احترام کی بنیاد پر عالمی برادری کے ساتھ تعمیری کا خواہاں ہے اور اس نے اپنے اس تعاون کا آغاز، پڑوسی ملکوں منجملہ ترکی، متحدہ عرب امارات،عمان اور کویت سے شروع کیا ہے۔انھوں نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بھی کہا کہ تہران اور ریاض، یکساں مقصد رکھتے ہیں اور وہ علاقائی سلامتی ہے، تاہم سعودی حکام کو اس بات کی صلاح دی جاتی ہے کہ دہشتگردوں کی حمایت کرکے اس مقصد کو حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
.......
/169