ابنا: تازہ ترین اطلاعات کے مطابق شہداء کے ورثا نے جنازوں سمیت کوئٹہ میں صبح 10 بجے سے دھرنادیا ہوا ہے جس کے بعد مجلس وحدت مسلمین پاکستان اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان نے ملک گیر احتجاجی دھرنوں کی کال دے دی۔ کوئٹہ شہر سے دھرنوں کی ابتداء ہونے کے بعد پورے ملک میں شیعہ مومنین نے احتجاجی دھرنے شروع کر دیے ہیں۔ کراچی میں نمائش چورنگی، شکار پور، حیدر آباد، دادو، لاہور، سیالکوٹ اور گلگت سمیت پورے ملک میں احتجاجی دھرنے جاری ہیں۔ شہداء کوئٹہ کے ورثا کا کہنا ہے کہ جب تک ہمارے مطالبات کو تسلیم نہیں کیا جاتا اس وقت تک جنازوں کی تدفین نہیں کی جائے گی۔احتجاجی دھرنے کے شرکاء اور شہداء کے ورثا کے ساتھ ساتھ تمام شیعہ ملی تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ ملک بھر میں طالبان اور لشکر جھنگوی کے خلاف فوجی آپریشن کیا جائے۔ اور ان کے سرپرستوں کو بھی قرار واقعی سزا دی جائے۔گرفتار شدہ دہشت گردوں کو سزا دی جائے۔ تاکہ دوبارہ ایسی مجرمانہ سازشوں کو روکا جا سکے۔یاد رہے کہ حکومت پاکستان اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے طالبان سے مذاکرات کی رٹ لگا رکھی ہے جبکہ طالبان اور لشکرجھنگوی کے دہشت گرد آئے روز ملک بھر میں فسادات اور قتل و غارت کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں۔ کیا حکومت پاکستان کی عوام کو تحفظ فراہم کی ذمہ داری نہیں ہے؟ کیا حکومت ان تکفیریوں اور طالبانائزیشن کے مٹھی بھر دہشت گردوں سے خوف زدہ ہے؟ کیا اسمبلی میں بیٹھے ہوئے اراکین اسمبلی دہشت گردوں کے سرپرست ہیں؟اگر حکومت پاکستان ان دہشت گردوں کو سزا نہیں دے سکتی، ان کے خلاف آپریشن نہیں کر سکتی ، شیعہ عوام کو تحفظ نہیں دے سکتی تو اس حکومت اور ایوان میں بیٹھنے والوں کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ حکومتی ایوانوں میں بیٹھیں۔احتجاجی شرکاء کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان امریکہ اور سعودی عرب کی پٹھو حکومت ہے جو ملک میں مذہبی منافرت پیدا کروا کر ملک میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کروا رہے ہیں۔ اور خصوصا شیعہ نسل کشی کروا رہے ہیں۔ ان کو امریکی اور سعودی عرب کی اس پالیسی سے چھٹکارا حاصل کرنا ہو گا اور ان کے آلہ کاروں کو ختم کرنے کے بعد ملک میں امن لایا جا سکتا ہے.









.......
/169