ابنا: شام کے وزیر خارجہ نے، جو شام کے وفد کے سربراہ بھی ہیں اس کانفرنس سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ شام کے خلاف جو کچھ ہورہا ہے وہ انقلاب کے نام پر دہشتگردی ہے کہ جسکی، باہر سے ہدایت کی جارہی ہے۔ فارس نیوز کے مطابق شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے کہا کہ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ اس کانفرنس میں ایسےملکوں کے نمائندے بھی بیٹھے ہوئے ہیں جن کے ہاتھ ملت شام کے خون سے رنگين ہیں۔ انہوں نے کانفرنس سے سوال کیا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک چیچن، ترک، سعودی یا برطانوی دہشتگرد، ملت شام کی امنگوں پر عمل درآمد کرسکے۔ شام کے وزیر خارجہ نے شام میں جاری دہشتگردی کے حامی ملکوں سے کہا کہ شام بھر پور طرح سے اپنا دفاع کررہا ہے اور آپ دہشتگردوں کی حمایت اور ان کو ہتھیار بھیجنا بند کردیں اور محاصرہ ختم کردیں۔ ولید معلم نے کہا کہ کچھ ممالک یہ فراموش کرچکے ہیں کہ گيارہ ستمبر میں ملوث عناصر شام میں دہشتگردی میں مشغول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دمشق، دہشتگردی کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا اور یہ اس کا قانونی فریضہ ہے۔ شام کے وزیر خارجہ نے کہا کہ شام کا وفد جنیوا ٹو کانفرنس میں شریک ہوا ہے تا کہ شام کو نجات دلاسکے اور مشرق وسطی پر حملوں کا خاتمہ کرسکے۔ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے مخاطب ہوکر کہا کہ دنیا میں کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ ملت شام کی جگہ اس کی تقدیر کے بارے میں فیصلہ کرے۔
.......
/169