16 جنوری 2014 - 20:30
مصر کے ۹۰ فی صد افراد نے نئے آئین کے ہاں بھر دی

مصری عوام نے حکومت کی جانب سے نئے آئین پر کئے گئے ریفرنڈم میں اس تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

ابنا: مصری عوام  نے حکومت کی جانب سے نئے آئین پر کئے گئے ریفرنڈم میں اس تبدیلی کے حق میں  ووٹ دیا ہے۔
جمعرات کو ایک سینیئر آفیشل نے  ایک خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ بہت سے بیلٹ بکسوں کی گنتی پوری ہوچکی ہے ان کا دعوی ہے کہ 90 فیصد افراد نے نئے آئین کیلئے ' ہاں ' کہا ہے ۔
تاہم انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے پر یہ تفصیلات فراہم کی ہے اور ساتھ ہی حتمی ٹرن آؤٹ بتانے سے بھی گریز کیا۔
نئے آئین کیلئے منگل اور بدھ کو پولنگ ہوئی جسے فوج کی حمایت یافتہ نگراں حکومت کیلئے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جارہا ہے جو گزشتہ برس جولائی میں منتخب صدر محمد مرسی کا اقتدار ختم ہونے کےبعد قائم ہوئی۔
اس آئین کے نئے ڈرافٹ کو اگلے صدارتی انتخابات اور محمد مرسی کو ہٹانے کے بعد عوامی رائے جاننے کیلئے اہم تصور کیا جارہا ہے۔
اس سے قبل اتحادیوں پر مشتمل محمد مرسی کی حکومت نے مصر کے موجودہ آئین میں بڑی حد تک ترمیم کی تھیں۔
تاہم محمد مرسی کی اخوان المسلمین نے اس ریفرنڈم کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جبکہ سلفی مسلمانوں پر مشتمل سیاسی جماعتیں بھی اس ریفرنڈم سے دور رہی ہیں۔
حکومت نے ان جماعتوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا۔ ان کے سرگرم کارکن گرفتار کئے گئے۔ ان کے رہنماؤں کو ٹی وی چینلز پر آنے سے روکا گیا اور مسجدوں میں وعظ سے بھی منع کردیا گیا۔
پولنگ اسٹیشنز پر حملوں کےخطرات کے تحت پولیس اور فوج کے ہزاروں اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔ اسی لئے عوام میں حملوں کا خوف بھی موجود تھا۔
یہ نیا آئین مرسی کی ان آئینی تبدیلیوں کی جگہ لے گا جو مرسی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی معطل کردیا گیا تھا۔ اور نئے آئین کے حامی دعوی کرتے ہیں کہ یہ اظہار کی آزادی اور عورتوں کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲