اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمن کی قومی نجات حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد عبدالسلام نے مأرب کی فضائی حدود میں سعودی F-15 جنگی طیارہ مار گرائے جانے کے اعلان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس واقعے کو سعودی حکومت کے لیے ’’بڑی رسوائی‘‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس کارروائی نے یمن کے خلاف سعودی عرب کے حملوں کی حقیقت واضح کر دی ہے۔
عبدالسلام نے ریاض کے اس دعوے کا حوالہ دیا کہ یمن پر کوئی حملہ نہیں کیا جا رہا اور کہا کہ سعودی جنگی طیارہ مار گرائے جانے کے واقعے نے ان کے بقول سعودی عرب کے ’’غلط بیانیے‘‘ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ انہوں نے اسے خطے اور عالمی برادری کے لیے سعودی ’’پروپیگنڈے‘‘ کے حوالے سے ایک اہم انتباہ قرار دیا۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی یمن کی فضائی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور اپنی خودمختاری اور فضائی حدود کے تحفظ کی صلاحیت مضبوط ہونے کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمن کی فضائی حدود بدستور یمنی افواج کی دفاعی کارروائیوں کا ہدف رہیں گی۔
یمن کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ نے سعودی پائلٹوں اور یمن کے خلاف فوجی کارروائیوں میں شریک دیگر اہلکاروں کو خبردار کیا کہ ان کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھنے کے نتیجے میں وہ شہید یا گرفتار ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ گزشتہ برسوں سے صنعاء میں دو سعودی پائلٹ قید ہیں اور سعودی عرب پر الزام عائد کیا کہ وہ ان کی صورتحال پر مناسب توجہ نہیں دے رہا اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق مذاکرات کو پیچیدہ بنا رہا ہے۔
یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب یمنی مسلح افواج نے مأرب کی فضائی حدود میں سعودی F-15 جنگی طیارہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کے ذریعے گرائے جانے کا دعویٰ کیا۔
یمنی افواج کے بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ رواں ہفتے سعودی F-15 اور ٹائفون جنگی طیاروں کے ذریعے 450 سے زائد فضائی حملے کیے گئے۔ بیان کے مطابق جنگی طیارہ گرائے جانے کے بعد سعودی طیاروں کی دو جنگی فارمیشنز اس کا ملبہ تلاش کرنے کے لیے علاقے میں داخل ہوئیں، تاہم یمنی فضائی دفاعی نظام کی کارروائی کے بعد انہیں واپس جانے پر مجبور ہونا پڑا۔
یہ تمام دعوے یمنی ذرائع کی جانب سے کیے گئے ہیں۔
آپ کا تبصرہ