ابنا: امریکی اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے افشا کی جانے والی خفیہ دستاویزات سے یہ بات سامنے آئی ہے امریکہ کی قومی سلامتی کی ایجنسی (این ایس اے) نے خفیہ ٹیکنالوجی کے ذریعے ان کمپیوٹروں کی بھی جاسوسی کی جن کا انٹرنیٹ کے ساتھ رابطہ نہیں تھا۔ یہ اہم انکشاف اس خیال کی نفی کرتا ہے کہ کسی مشین کو مکمل طور پر محفوظ بنانے کا آسان اور موثر طریقہ یہ ہے کہ اسے انٹرنیٹ سے علیحدہ کر دیا جائے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے حال ہی میں شائع کی گئی ایک رپورٹ میں ان دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک لاکھ کمپیوٹروں میں ایسے چھوٹے آلات لگائے گئے جو برقی لہریں خارج کرتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق این ایس اے نے اپنے اہداف کے کمپیوٹروں میں چھوٹے سرکٹ بورڈ اور یو ایس بی کارڈ لگا کر برقی لہروں کی مدد سے ڈیٹا حاصل کیا جس میں کسی کمپیوٹر کا کسی نیٹ ورک پر ہونا ضروری نہیں تھا۔
یہ ٹیکنالوجی نئی نہیں ہے لیکن امریکی ادارے کی جانب سے اس کے استعمال کے بارے میں اس سے قبل علم نہیں تھا۔نیورک ٹائمز کو دیے گئے ایک بیان میں این ایس اے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس طریقے کے ذریعے امریکہ میں کسی کو ہدف نہیں بنایا گیا۔
انھوں نے کہا: ’این ایس ای کی کارروائیوں کے ذریعے صرف انٹیلی جنس کی ضروریات کے تحت بیرون ملک اہداف کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔’ہم بیرون ملک اپنی انٹیلی جنس کو امریکی کمپنیوں کے مفاد میں دیگر ممالک کے تجارتی راز حاصل کرنے کے لیے استعمال نہیں کرتے۔‘
اخبار کے مطابق ان آلات کے اہداف میں چینی اور روسی فوج شامل ہے۔
.......
/169