ابنا: محمد جواد ظریف نے، جو آج صبح بغداد پہنچے ہیں صحافیوں سے گفتگـو میں کہا کہ دہشتگردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ علاقے کےممالک آپسی تعاون سے اس مسئلے کوحل کریں۔ انہوں نے دہشتگردی کے خلاف بغداد حکومت کی کاروائيوں کی حمایت کی۔ ایران کے وزیر خارجہ علاقے کے چار ممالک کے دورے میں دوسرے مرحلے میں آج صبح عراق پہنچے۔ بغداد سے قبل لبنان کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے لبنان کے صدر، وزیر خارجہ اور پارلیمنٹ کے اسپیکر اور تحریک جہاد اسلامی فلسطین کے سیکریٹری جنرل رمضان عبداللہ سے ملاقاتیں کی تھیں۔ محمد جواد ظریف نے لبنان میں مذہبی رہنماؤں سے ملاقات میں کہا ہے کہ پانچ جمع ایک کے ساتھ ایران کے جنیوا معاہدے سے مشرق وسطی کا علاقہ، کشیدگي اور جھڑپوں سے دور ہوا ہے اور صیہونی دشمن کے ہاتھ سے علاقے کو کشیدگي کا شکار کرنے کا بہانہ ختم ہوچکا ہے۔ انہوں نے شام کے بحران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر شام کا بحران جاری رہا تو سارے علاقے کو اپنی آگ کی لپیٹ میں لے لےگا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران فتنوں اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کےلئے علاقے کے تمام ملکوں کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہے اور لبنان شام اور فلسطین کی قوموں کی حمایت کرتا رہے گا۔
.......
/169