ابنا: وزير خارجہ محمد جواد ظريف نے ايٹمي مذاکرات ميں تہران کي سنجيدگي کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملت ايران افہام و تفہيم کي حامي ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ ايراني عوام کو مغرب کي نيک نيتي پر شک ہے اس لئے کوشش اس بات کي ہوني چاہئے کہ ملت ايران کا اعتماد حاصل کيا جائے۔ وزير خارجہ محمد جواد ظريف نے اٹلي کي سينٹ ميں خارجہ پاليسي کميشن کے سربراہ فريڈنانڈو کازيني سے ملاقات ميں کہا کہ دونوں ملکوں کے پارليماني وفود کے رابطے اور اعلي حکام کے دورے باہمي تعميري تعلقات کے لئے بہت ہي مفيد ہيں ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو زيادہ سے زيادہ فروغ دينے کي ضرورت ہے۔ايران کے وزير خارجہ نے مشرق وسطي ميں روز افزوں عدم استحکام کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقے ميں جمہوريت کے نئے ماڈل کي ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہا پسندي کے اقدامات کا کوئي نتيجہ نہيں نکلےگا ۔ ايران کے وزير خارجہ جواد ظريف نے شام ميں دہشت گردي اور انتہا پسندي کا حوالہ ديتے ہوئے کہاکہ انتہاپسندي سب کے لئے خطرہ ہے اور کوئي يہ دعوي نہيں کرسکتا کہ يہ فقط اسي علاقے کا مسئلہ ہے۔ايران کےوزير خارجہ نے شام کے خلاف طاقت کے استعمال کي مخالفت ميں اٹلي کے موقف کو دانشمندانہ بتايا اور کہا کہ اگر شام کے خلاف فوجي کاروائي کي جاتي تو علاقے ميں ايسي آگ بھڑکتي جس کے شعلے پورے علاقے اور باہر کے خطوں کو بھي اپني لپيٹ ميں لےليتے۔ اطالوي پارليماني وفد کے سربراہ نے بھي اس ملاقات ميں باہمي تعلقات کو مزيد فروغ دينے کے لئے ايران اور اٹلي کي پارليمانوں کے کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے اس اميد کا اظہار کيا کہ ہم اميد کرتے ہيں کہ تمام شعبوں ميں تعلقات فروغ پائيں گے۔اٹلي کا يہ پارليماني وفد ايران کا دورہ مکمل کرکے پير کو تہران سے روانہ ہوگيا۔
.......
/169