5 جنوری 2014 - 20:30
اسلام آباد میں قومی امن کنونشن وحدت کا عظیم اجتماع

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ، سنی اتحاد کونسل پاکستان اور وائس آف شہداء کے زیراہتمام ڈی چوک اسلام آباد میں قومی امن کنونشن منعقد ہوا۔

ابنا: پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے رپورٹ کے مطابق اس کنونشن میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ وہ وقت دور نہیں جب مظلوموں کا اتحاد ظالموں کو مٹا دے گا، وحدت کے پیغام کو گھر گھر، گلی گلی، کوچے کوچے میں لے کر جائیں گے۔ محبتوں کو فروغ اور نفرتوں کا خاتمہ کریں گے۔ اس دفعہ کا میلاد تاریخ کا بے مثال میلاد ہوگا جس میں شیعہ سنی ملکر اتنی بڑی تعداد میں شرکت کریں گے کہ دنیا پر واضح ہوجائے گا کہ اس ملک میں مصطفیوں (ص) اور حسینیوں (ع) کی اکثریت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جلوس کو عبادت سمجھتے ہیں اور اس عبادت پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ اس مرتبہ گلگت میں پہلی مرتبہ سنی اتحاد کونسل کی جانب سے میلاد کا جلوس نکالا جائیگا، جس کو مجلس وحدت مسلمین کی مکمل سپورٹ حاصل ہوگی۔ دہشتگردوں کا علاج مذاکرات نہیں آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہے، مذاکرات کے ڈھونگ کو قوم نہیں مانتی۔  علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ دہشگرد اسلام اور پاکستان دونوں کے دشمن ہیں، یہ کسی عہد کے ماننے والے نہیں ہیں، انہیں ڈھیل دینا قانونی اور اخلاقی نہیں ہے، اُن ہاتھوں کو توڑ دیا جائے جو اس مادر وطن کیخلاف اٹھتے ہیں، جو آئین پاکستان، سپریم کورٹ، پارلیمنٹ سمیت کسی ادارے کو تسلیم نہیں کرتے، ہم شہداء کے ورثاء سے عہد کرتے ہیں کہ خون کے آخری قطرے تک ان کے ساتھ ہیں، بزدل حکمرانوں کو خیانت نہیں کرنے دیں گے۔ ہم ملک میں امریکی اور نجدی اثر و رسوخ کو کسی صورت قبول نہیں کرتے۔ مظلوم طبقات کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے وطن کو ظالم قوتوں سے پاک کریں گے اور وہ دن دور نہیں جب ملک میں امن، محبت انصاف اور اتفاق کا بول بالا ہوگا۔ ہمیں کنونشن سنٹر میں روکنے سے ظاہر ہوگیا ہے نواز حکومت کی طالبان سے کمٹمنٹ ہے جسے وہ توڑنا نہیں چاہتی، وطن بچانے کا راستہ کٹھن اور مشکل ہے، لیکن ہم گھبرانے والے نہیں ہیں۔ جن کے آباو اجداد نے اس وطن کو بنایا تھا انہی کی اولادیں اسے بچائیں گے۔ اس عظیم الشان کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے  سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے کہا ہے کہ حکومت نے کنونشن سنٹر میں پروگرام کو روک کر ثابت کر دیا کہ اس ملک میں جمہوری لوگوں کی نہیں بلکہ طالبان نواز لوگوں کی حکومت ہے. انہوں نے کہا کہ ہم سروں پر کفن باندھ کر میلاد کے جلوسوں کیلئے نکلیں گے۔ جنہوں نے پاک فوج اور سویلینز پر حملے کئے ہم انہیں پاکستانی اور مسلمان نہیں مانتے، طالبان سے مذاکرات پاکستان کی مخالفت کی بنیاد رکھنے کے برابر ہے، طالبان سن لیں جب تک جان میں جان ہے وطن پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے اور نہ ہی اپنی مرضی کا اسلام مسلط کرنے دیں گے۔ اگر طالبان سے مذاکرات ہوئے تو ملک گیر دھرنے دیں گے۔ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ گذشتہ کئی سالوں سے اسلام آباد میں حضرت بری امام کا عرس نہیں منانے دیا جا رہا، ہم حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ عرس کے انتظامات کرے، بصورت دیگر 27 اپریل کو ہم خود عرس کی تقریب منعقد کریں گے۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی نے کہا کہ آج کے اجتماع کا مقصد پاکستان کے دفاع اور مظلوموں کو مضبوط بنانا اور تمام مکاتب فکر میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے، ہم اس ملک سے ظلم اور بربریت کے خاتمے کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں اور یہ اتحاد مزید مضبوط ہوگا۔ جو لوگ اس ملک کو کمزور کر رہے ہیں ان کا پاکستان، اسلام اور انسانیت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ان افراد کا اجتماع ہے جن میں برداشت کا مادہ پایا جاتا ہے۔ اس اجتماع میں کسی قسم کی مذہبی و مسلکی تفریق نہیں، ان سب کے درمیان پاکستانیت اور انسانیت مشترک ہے۔ اپنے اتحاد سے فرقہ پرستوں، شدت پسندوں اور دہشتگردوں کو شکست فاش دیں گے۔ آج کے اس منفرد اور تاریخ ساز اجتماع میں شیعہ سنی، سکھ، عیسائی اور ہندو برادری کے نمائندوں کے علاوہ مختلف طبقات زندگی سمیت سکیورٹی فورسز کے وارثان شہداء نے شرکت کرکے اس بات کا اعلان کر دیا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف پوری پاکستانی قوم ایک ہے۔  وائس آف شہداء کے ترجمان سینیٹر فیصل رضا عابدی نے مجلس وحدت مسلمین اور سنی اتحاد کونسل کے زیراہتمام پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے قومی امن کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کوشش کی کہ قومی امن کنونشن نہ ہو، لیکن شہداء کے ورثاء نے طالبان نواز حکومت کی اس سازش کو ناکام بنا دیا۔ ہم اعلان کرتے ہیں وحدت کی فضاء کو پروان چڑھاتے ہوئے جلد ہم ملک کے دیگر شہروں میں جائیں گے۔ فیصل عابدی نے کہا کہ آج کی اسمبلی میں بیٹھے ہوئے افراد بے حس  ہیں، جو شہداء کے خون کا سودہ کرنا چاہتے ہیں، ہم انہیں شہداء کے خون سے غداری نہیں کرنے دیں گے۔ عدالتوں کے کٹہروں سے دہشتگردوں کو چھوڑنے والے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری آج سکیورٹی مانگ رہا ہے۔ شہادت ہماری منزل ہے، اگر ہماری شہادت سے یہ مملکت بچ سکتی ہے تو ہم یہ قربانی دینے کیلئے تیار ہیں۔ سیاستدانوں کو جب ووٹ مانگنا ہوتا ہے تو ہم جیالے، متوالے، جماعتی اور سونامی یاد آتے ہیں لیکن جب ہم پر ظلم ہوتا ہے تو ان میں سے کوئی نہیں بولتا۔  کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے اعجاز پادری اور چربجیت سنگھ ساگر نے کہا کہ ہم وطن کے بیٹے ہیں ہمیں غیر نہ سمجھا جائے، طالبان کے ظلم سے کوئی محفوظ نہیں، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ریاست مخالف قوتوں کو کچلا جائے، سنی اتحاد کونسل کے ڈپٹی سکرٹری جنرل طارق محمود نے کہا کہ مسلمانوں اور پاکستانیوں کا ناحق خون بہانے والوں سن لو ہم ایک ہیں، پاکستان کے دشنموں سے مذاکرات کئے جا رہے ہیں، اگر شہداء کے خون سے غداری اختیار کی گئی تو ہم سڑکوں پر ہوں گے۔ رہنماؤں نے ستائیس اپریل کو بری امام سرکار کا عرس کروانے کا بھی اعلان کیا۔ کنونشن سے صاحبزادہ عمار سعید سلمانی، علامہ صادق تقوی، علامہ شیخ صلاح الدین، ایم ڈبلیو ایم کے سیکرٹری سیاسیات ناصر عباس شیرازی، مفتی محمد سعید رضوی، سید احمد اقبال رضوی، وزیرالقادری، اعجاز پادری، قاضی عتیق الرحمان، طارق محبوب اور اسد خان جدون سمیت دیگر نے خطاب کیا۔

.......

/169