ابنا: انسانی حقوق کے ایک گروہ کی رپورٹ کے مطابق ان افراد میں اڑتالیس عام شہری، تہتّر کشمیری مخالفین اور بیاسی سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔یہ ایسی حالت میں ہے کہ سنہ دو ہزار بارہ کے دوران اس علاقے میں تشدد کے واقعات میں ایک سو اڑتالیس افراد مارے گئے تھے جس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ سنہ دو ہزار تیرہ میں تشدد کے واقعات میں اڑتیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔واضح رہے کہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کا علاقہ، دنیا کا ایک اہم فوجی علاقہ شمار ہوتا ہے کہ جہاں ہندوستان کی حکومت اپنے روانہ کئے جانے والے فوجیوں کی تعداد کا سرکاری طور پر اعلان نہیں کرتی۔
.......
/169