ابنا: ڈاکٹر کوین بیرٹ جو11/9تحقیقاتی کمیٹی کے ایک رکن بھی تھے نے کہا کہ11/9حملے کوامریکا،اسرائیل اورسعودی عرب نےمشترکہ طور پرانجام دیا جس میں صہیونیوں نے ادا قردار ادا کیا۔
جمعرات کو امریکہ کی اعلیٰ عدالت نے نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرا رکھتے ہوئے باضابطہ طور پر ایک فرمان جاری کرتے ہوئےکہا کہ 9/11 حملے میں مارے گئے افراد کے رشتہدار سعودی عرب کے خلاف مقدمہ دائر کر سکتے ہیں شکایت کے مطابق 9/11 میں والڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون پر ہوئے حملے میں ملوث القاعدہ کے دہشتگردوں کی بیشتر فینڈگ سعودی عرب کے ذریعے ہوئی تھی۔
امریکی تجزیہ نگار نے اس فلسفہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب امریکہ اور دیگر مغربی حکومتوں کی کٹھ پتلی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہاں کوئی اغوا کاری نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی وہا ں اغوا کار نہیں اور یہ بہت سارے ثبوتوں سے ثابت کیا گیا ہیں۔انہوں نے کہا کہ 19افراد جن پر الزامات عائد کئے گئے تھے9/11کے بعد بھی زندہ تھے۔اس کے برعکس اس حملے کے اصل گنہگاروں نے سعودی خفیہ ایجنسی کو استعمال کیا تاکہ اس حملے کا الزام دوسروں پر عائد کیا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ 2002میں کانگرس کی مشترکہ جانچ جس سے دبا کے رکھا گیا ہے اصلی گنہگاروں کو بے نقاب کرتی ہیں۔اور اس رپورٹ کو عوام کو سامنے رکھنا چاہیں۔
بیرٹ نے کہا کہ سابق سنیٹر باب گرہم جو اس وقت 9/11کے سربراہ تھے انہوں نے اس وقت کہا تھا کہ 9/11حملوں میں غیر ملکی حکومت کا ہاتھ ہونے کے شواہد ملیں ہیں مگر اس بات کو ابھی تک دبا کے رکھا گیا ہیں۔
واضح رہیں 11ستمبرحملے جس سے 9/11 بھی کہا جاتا ہیں امریکہ کے دو بڑے شہروں پر انجام دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں 3000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے ۔
.......
/169