ابنا: عالمی اردوخبررساں ادارے ‘‘نیوزنور’’نے پرس ٹی وی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سابق اہکار رابیرٹ نے اپنی کتاب میں اس بات کا خلاصہ کیا ہے کہ 90 کی دہائی میں امریکہ نے سعودی عرب کے اشتراک سے وہابیت کو پیدا کیا۔
2003 میں اپنی کتاب ‘‘Sleeping with the Devil’’ میں بیر نے چیچینیا میں تکفیری دہشتگردی کو سعودی حمایت اور امداد کو ظاہر کیا۔
رابیرٹ بیر لکھتے ہیں کہ سعودی عرب اور چیچن باغیوں کے درمیان تعلقات کا جواب مجھے سی آئی اے چھوڑنے کے بعد روسی خفیہ ایجنسی کی رپورٹ میں ملا.جون 1980 میں بیر نے کہاتھا کہ چالیس چچن باشندوں کو خفیہ طریقے سے ریاض سے پانچ میل کی دوری پر قائم ایک فوجی کیمپ میں چار ماہ تک تربیت دی گئی۔بیر اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ وہابی اسلام کی تشکیل دینے میں کافی وقت مقرر کیا گیا تھا اور ریاض میں اُس وقت کے گورنر شہزادہ سلمان اور ان کے بھائی اس تربیتی کیمپ کو سپانسر کر رہے تھے۔
بیر جنہوں نے سی آئی اے میں 21 برس تک کام کیا کہتے ہے کہ سعودی عرب سیدھے طور پر دہشتگردی کو سپانسر کر رہا تھا اور ریاض کو امریکہ کی طرف سے تیل کے پیسے کی آدائیگی دہشتگردانہ کاروائیوں کےلئے استعما ل ہوتے ہیں۔
بیر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ امریکہ جان بھوج کر دہشتگردی کو سعودی حمایت کو نظر اندازکرہا ہے تاکہ تیل سے مالامال سعودی سلطنت کے ساتھ تجارت جاری رکھ سکیں۔
9/11 کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہپیں کہ بندر بن سلطان جو اس وقت امریہ میں سعودی سفیر تھے کی زوجہ جہاز کے اغواکارو کو مالی امداد فراہم کرتی آرہی تھی۔
اقوام متحدہ کو بھیجی گئی ایک رپورٹ کے مطابق 1992سے سعودی عرب نے القاعدہ کو نصف بلین امریکی ڈالر فراہم کئے ہیں۔رابیرٹ لکھتے ہیں.
.......
/169