19 دسمبر 2013 - 20:30

جبہۃ النصرہ کے سرغنے ابو محمد جولانی نے الجزیرہ کے ساتھ نمائشی مکالمے کے دوران اسلامی تنظیموں کے نام نہاد مبصر کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے جنوری 2014 میں منعقد ہونے والی جنیوا 2 کانفرنس کو سرے سے مسترد کیا۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ابومحمد الجولانی نے کہا: ہم شام کا مسئلہ سیاسی روشوں سے حل کرنے کے سلسلے میں جنیوا 2 کانفرنس کے نتائج کو تسلیم نہیں کریں گے کیونکہ جو لوگ شامی اپوزیشن کی طرف سے اس کانفرنس میں شرکت کرنے جارہے ہیں وہ ان افراد کے نمائندے نہیں ہیں جنہوں نے خون دیا ہے اور جان دی ہے۔ وہ کسی کے نمائندے بھی نہیں ہیں اور ہم اجازت نہیں دیں گے کہ جنیوا 2 کانفرنس نامی کھیل کے ذریعے "امت کو"(!) کو دھوکا دیا جائے۔ دہشت گرد تنظیم جبہۃالنصرہ کا سرغنہ ان دنوں داعش نامی دہشت گرد تنظیم کے ساتھ براہ راست ٹکراؤ کے مرحلے سے گذر رہا ہے، اور اس کا کہنا تھا کہ "ہم شام میں اسلامی خلافت کے قیام کے درپے ہیں اور ہم یہ خلافت شام میں سرگرم اسلامی تنظیموں کے مشورے سے قائم کریں گے۔ الجولانی پہلی بار کسی ٹی وی مکالمے میں حاضر ہوا تھا لیکن اس کا چہرہ اسکرین پر نظر نہ آیا اور صرف اینکر کا چہرہ نظر آرہا تھا۔ الجزیرہ کے اینکر تیسیر العلونی کا کہنا تھا کہ ہم القاعدہ کے اس سرغنے کے ساتھ بات چیت کے لئے سیکورٹی کے مختلف مراحل سے گذر کر شام میں ایک خفیہ مقام پر اس سے انٹرویو لینے میں کامیاب ہوا ہے۔ علونی نے 2001 میں معدوم القاعدہ راہنما اسامہ بن لادن کے ساتھ بھی ایک ٹیلی ویژن مکالمہ کرچکا ہے اور اس کا کہنا تھا کہ جن انتظامی اور حفاظتی تدابیر سے گذرکر وہ الجولانی تک پہنچا ہے اتنے انتظامات اسامہ بن لادن تک پہنچتے وقت نظر نہیں آئے تھے۔............./٭۔٭