16 دسمبر 2013 - 20:30
ایران کے دفتر خارجہ کی ترجمان کی پرس کانفرنس

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان محترمہ مرضیہ افخم نے کہا ہے کہ انتہا پسندی سے پوری عالمی برادری کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے اس لئے اس سلسلے میں اجتماعی طور پر اہم و موثر اقدام عمل میں لائے جانے کی ضرورت ہے۔

ابنا: محترمہ مرضیہ افخم نے آج تہران میں ملکی و غیر ملکی نامہ نگاروں سے گفتگو میں عراق میں ہونے والے حالیہ دہشتگردانہ حملوں پر اس ملک کی حکومت اور عوام سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے عراق میں ایرانی انجینیروں اور محنت کشوں کی، ہونے والی شہادت اور اسی طرح اس ملک میں ہونے والے مختلف دہشتگردانہ حملوں کی مذمت کی۔ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ بعض ممالک کی جانب سے ناجائز مقاصد کے تحت عراق میں مسلح دہشتگردوں کی حمایت جاری ہے بنابریں ان ممالک کو اپنے اس قسم کے اقدامات کا جواب دہ ہونا پڑیگا۔محترمہ مرضیہ افخم نے ایران کے وزیر خارجہ سے امریکی وزیر خارجہ کی ٹیلیفونی گفتگو کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ گفتگو مشترکہ اقدام میں آنے والی تبدیلیوں کے تناظر میں انجام پائی ہے جس میں امریکہ کو اس کے نادرست اقدام پر ایران کی ناخوشی سے بھی باخبر کیا گیا۔ انھوں نے جنیوا ٹو کانفرنس میں ایران کی شرکت کے بارے میں بھی کہا کہ اطلاعات کے مطابق ابھی اس کانفرنس میں شرکت کیلئے کسی بھی ملک کو دعوت نہیں دی گئي ہے اور کل سنا ہے کہ اقوام متجدہ کے سکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ دعوت نامے پیش کردیئے جائیں گے اور ایران کا کہنا ہے کہ وہ شام کے بحران کے حل کے سلسلے میں ہر قسم کا تعاون کرنے کیلئے آمادہ ہے اور اگر تہران کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی تو وہ اس کانفرنس میں غیرمشروط طور پر شرکت کریگا۔

.......

/169