15 دسمبر 2013 - 20:30
ایران کے وزير خارجہ کا سی ، بی ، ایس چینل کے ساتھ انٹرویو

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے امریکی چینل سی ، بی ، ایس کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ ایران کی بعض کمپنیوں اور عہدیداروں کے خلاف پابندیاں عائد کئے جانے پر مبنی امریکی وزارت خزانہ کا اقدام مکمل طور پر غلط تھا اور مجھے اس فیصلے سے سخت تکلیف ہوئی ہے پھر بھی طویل مدت مذاکرات جاری رکھنے کےلئے مختصر مدت کے سمجھوتے کے ہم پابند ہیں ۔

ابنا: وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم جنیوا سمجھوتے پر عملدرآمد کے پابند ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ فریقین کو اس سمجھوتے کا پابند ہونا چاہئے ۔ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان 24 نومبر کو جنیوا میں ہونے والے ایٹمی مذاکرات ، جو جنیوا سمجھوتے پر منتج ہوئے ، اس وقت حساس مرحلے میں پہنچ چکے ہیں ۔گذشتہ ہفتے ویانا ميں اس ابتدائی سمجھوتے پر عملدر آمد کے مراحل کے بارے ميں ماہرانہ سطح پر مذاکرات انجام پائے لیکن ایران کے خلاف امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے نئی پابندیوں کی منظوری ، ان مذاکرات پرسایہ فگن رہی ۔ایران کے وزیر خارجہ نے اس امریکی اقدام پر  ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ مذاکرات کے فریقوں کی جانب سے ہر نامناسب اور غیر تعمیری اقدام پر ہم مناسب رد عمل ظاہر کریں گے ۔ اگر چہ ان  خیالات کو بعض حلقوں  کی جانب سے ، مذاکرات میں اپنے موقف سے  ایران کی پسپائي کے مترادف قراد یا گیا تاہم اس قسم کے پروپگنڈوں کے اصلی اہداف سے قطع نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ چیز جو جنیوا سمجھوتے کے دائرے میں حاصل ہوئي ، وہی ایران کے ایٹمی مسئلے کا منطقی حل ہے کہ جو دس سال سے زیادہ عرصے سے مختلف بے بنیاد بہانوں سے ایران کو ڈرانے دھمکانے اور اس کے خلاف غیر منطقی پابندیاں عائد کئے جانے پر منتج ہوئی ہے ۔ اس نقطۂ نگاہ سے جنیوا ایٹمی سمجھوتہ ، یورینئم کی افزودگي سمیت ایران کے ایٹمی حقوق کی حفاظت کے ساتھ ہی پابندیوں کو توڑنے کی سمت ایک قدم ہے ۔ اس بناءپر یہ فطری امر ہےکہ اس سمجھوتے کے مخالفین بھی ہوں ، کیوں کہ اگر اس کا کوئی مخالف نہ ہو تا تو یہ سمجھوتہ اس سے پہلے ہی طے پا چکا ہوتا ۔ در حقیقت ابھی بھی بعض فریق ، ماضی کے حالات کی سمت واپسی کی امید رکھے ہوئے ہیں ۔ واضح سی بات ہےکہ صہیونی لابی کے پیش نظر امریکی حکمرانوں کے درمیان ایک  گروپ ہے جو اس کوشش میں ہے کہ اشتعال انگیز اور غیر منطقی اقدامات کے ذریعے اس سمجھوتے پر عملدر آمد کی راہ میں رکاوٹ بنے ۔ جبکہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے امریکی وزارت خزانہ کے اس فیصلے پر ردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن ، ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا خواہاں ہے ۔ امریکی صدر کی قومی سلامتی کی مشیر سوزان رائس  کے ساتھ بھی گذشتہ ہفتے ، اسرائیلی حکام کے ساتھ متعدد نشستیں انجام پائیں تاکہ ایران کےساتھ ہونے والے عارضی ایٹمی سمجھوتے  کے سلسلے میں ان کی حمایت حاصل کرسکیں ۔ لیکن یہ مسلمہ امر ہے کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے سمجھوتے کے باوجود ابھی بھی بہت سے ایسے مسائل ہیں جو تشنہ رہ گئے ہیں کہ جن کا جائزہ لئے جانے کی ضرورت ہے۔کیوں کہ آخری اور حتمی ہدف و مقصد ایک جامع منصوبے تک رسائی ہے ۔ اسی بناء پر ایران کے وزیر خارجہ نے صراحت کے ساتھ کہا ہےکہ ایران طولانی مدت کے مذاکرات جاری رکھنےکے لئے مختصر مدت کے سمجھوتے کا پابند ہے ۔ اس تاکید کا معنی یہ ہےکہ تہران نے اعتماد کی بحالی اور بعض ابہامات کو برطرف کرنے کی غرض سے اتفاق رائے کیا ہے تاکہ فریق مقابل کی تشویش برطرف کرنے کے ساتھ ہی اسلامی جمہوریۂ ایران کے مکمل حقوق کا تحفظ کرے ۔ لیکن اسے آگے بڑھانے کے لئے تمام فریق کی جانب سے متوازن اور نیک نیتی پر مبنی اقدامات کی ضرورت ہے ۔ اس بناء پر اگر مذاکرات کے ذریعے اعتماد کی بحالی حاصل نہ ہو  تو پھر بعد کے اقدامات کا عملی صورت اختیار کرنا ناممکن ہوجائیگا.

.......

/169