ابنا: مجلس وحدت مسلمین ، شیعہ علماء کونسل اور تحفظ عزاداری پاکستان کونسل نے شہرملتان میں مجلس وحدت مسلمین کے اہم رہنما علامہ ناصرعباس کےقتل کی مذمت کی ہے۔مجلس وحدت مسلمین کےسربراہ راجہ ناصرعباس جعفری اور تحریک جعفریہ پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے اسلام آباد حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس دہشتگردانہ حملے کے ذمہ داروں کوگرفتار کرکے قرار واقعی سزا دے۔تحریک انصاف پارٹی اوراہلسنت کونسل کےسربراہ علامہ طاھراشرفی نے بھی مجلس وحدت مسلمین کےرہنما کی شہادت کی مذمت کی ہے۔آج لاہور میں بھی علامہ ناصرعباس کے قتل کےخلاف احتجاج کیاگیا اور عوام نے لاہور کےگورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا دے رکھا ہے۔ مظاہرین، پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کےخلاف جرائم اور حملوں کا سلسلہ بند کئے جانے کی ضرورت پرتاکید کررہے ہیں۔اگرچہ ابھی تک کسی بھی شخص یا گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہيں کی ہے لیکن سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان میں شیعہ رہنماؤں کا قتل ایک ہدف کےتحت انجام پارہا ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ملک میں دہشتگرد اور فرقہ پرست گروہوں نے قاتل دستے تشکیل دے رکھے ہیں جس نےگذشتہ ایک برس سے شیعیوں کو اپنا ہدف بنا رکھا ہے۔دہشتگردوں نے ابھی حال ہی میں کراچی میں مجلس وحدت مسلمین کے ڈپٹی جنرل سکریٹری علامہ دیدار علی جلبانی کو بھی شہید کردیا تھا۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ فرقہ پرست دہشتگردوں نے شیعہ مسلم رہنماؤں کو اپنے قاتلانہ حملوں کانشانہ بنا رکھا ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح شیعہ رہنماؤں کوشہید کرکے پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کو کمزور کردیں گے۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ شیعہ مسلمانوں نے ہمیشہ یہ ثابت کیا ہے کہ وہ پاکستان کے ہرمذہب وملت سےتعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ پرامن زندگی گذارتے ہوئے اس ملک کی خودمختاری و پیشرفت کے لئے ہرممکن کوشش کرتے رہیں گے۔ لیکن پاکستان میں موجود دہشتگرد جن کی بیرون ملک سے مدد ہو رہی ہے، مذہبی اختلافات کوھوا دے کر خانہ جنگی کرانے کے لئے شیعہ مسلمانوں کے رہنماؤں کوقتل کرتے ہیں۔ابھی حال ہی میں پاکستان اور جمہوریہ آذربائیجان سمیت مختلف ممالک میں وہابیت کے پھیلنے کے سلسلے میں متعدد رپورٹیں سامنےآئی ہیں جن کامقصد اسلامی ممالک ميں شیعہ اور سنی رہنماؤں کونشانہ بنانا ہے۔ بنا برایں سیاسی ماہرین کی نگاہ میں حکومت پاکستان کو، دہشتگردوں اورفرقہ پرستوں سے نمٹنے کےلئے سنگین ذمہ داریوں کاسامنا ہے۔ کیونکہ دہشتگردوں سے نرم رویہ پاکستان کی قومی اتحاد و سلامتی کوخطرے میں ڈال سکتا ہے۔ پاکستان میں بہت سی سیاسی اور مذہبی شخصیتوں اورحلقوں کا خیال ہے کہ فرقہ پرستوں اور دہشتگردوں کی شناخت اور مقابلہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی اور عدلیہ کے لئے مشکل کام نہيں ہےکیونکہ ان میں اکثرگروہ جانے پہچانے ہیں اور لازمی سیاسی و عدالتی عزم کی صورت میں فرقہ پرستوں سے سختی سے نمٹا جاسکتا ہے۔
.......
/169