ابنا: علیکم السلامتشھد میں پڑھی جانے والی صلوات مخصوص صلوات ہے جس پر امت مسلمہ کا اتفاق ہے وہ جیسے پڑھی جاتی ہے ویسے ہی جانا چاہیے اس میں تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔ تشھد کے علاوہ مثلا قنوت میں ، سجدوں اور رکوعوں میں جہاں آپ ذکر سجدہ اور ذکر رکوع کے بعد صلوات پڑھتے ہیں وہاں نام لے کر صلوات بھیجنے میں کوئی حرج نہیں ہے چونکہ وہاں اصل ذکر سجدہ ہے ذکر رکوع ہے جو آپ نے پڑھ دیا اس کے بعد والی صلوات جزء نماز شمار نہیں ہوتی لیکن تشھد میں پڑھی جانے والے صلوات جزء نماز ہے نماز کا حصہ ہے اس کے بغیر نماز باطل ہے جبکہ باقی جگہ ایسا نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
13 دسمبر 2013 - 20:30
News ID: 488684
Slam aip na kha hai jha namaz ma salwat pari jati hai wha aip imah ki nam lah siktay hai tashad ma b salwat pari jati hai wha b lah siktay hai