ابنا: سید عبدالروف قتالی نے بندرخمیر کے نمازیوں کے اجتماع میں کہا ہے کہ قائد انقلاب اسلامی کے بیانات ہمیشہ اس مطلب کی عکاسی کرتے ہیں کہ شیعہ اورسنی ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہے ہیں اورمل جل کرزندگی گزارتے رہے ہیں اورملک کی آٹھ سالہ جنگ میں اپنے وطن کا دفاع کرتے رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ اس وقت بھی امت مسلمہ کی وحدت اورروشن خیالی کے ذریعے وہابیت کے خلاف جنگ کرنی چاہیے۔قتالی نے کہا ہے کہ سورہ مبارکہ مائدہ کی آیت نمبر۲ کی بنا پر جوبھی کسی مسلمان کوکافرکہے وہ خود کافرہے اورہم اگرتکفیریوں کو کافر جانتے ہیں تو اس کا مطلب کسی مسلمان کوکافرقراردینا نہیں بلکہ مسلمانو ں کو کافرقراردینے کی وجہ سے ہم انہیں کافرکہتے ہیں۔انہوں نے اسلام کو امن ومحبت،اورمہربانی کا دین بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ سورہ مبارکہ آل عمران کی آیت نمبر۱۰۳ میں فرماتا ہے کہ« وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِیعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ» سب اللہ کی رسی کومضبوطی سے تھام لو اورتفرقہ نہ ڈالو"۔امام جمعہ اہل سنت بندرخمیر نے مزید کہا ہے کہ حدیث میں ہے کہ وہ شخص مسلمان ہے کہ جس کے ہاتھ اورزبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں لہذا جب اس حدیث کی روشنی میں ایک شخص کے مسلمان ہونے کا حکم صادرہوتا ہے تو کیا ایک مسلمان شخص ا پنے دیگرمسلمان بھائی کو کافرکہہ سکتا ہے؟ انہوں نے کہا ہے کہ اس سوال کا جواب نفی میں ہے کیونکہ اللہ تعالی سورہ مبارکہ مائدہ کی ۲نمبرآیت میں فرماتا ہے کہ: « وَتَعَاوَنُواْ عَلَى الْبرِّ وَالتَّقْوَى وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ»۔ نیکی اورپرہیزکاری کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو اورگناہ اورظلم میں ایک دوسرے سے تعاون نہ کرو۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ سب سے پہلے محمدبن عبدالوہاب نے نفاق اورتکفیر کا بیج بویا تھا یہ ایک دھوکہ باز اورفریب دینے والا شخص تھا اورابن تیمیہ حرانی کے بقول یہ شخص لوگوں کے درمیان دھوکہ اورفریب پرمبنی تقاریرکرتا تھا اوران پڑھ اورسادہ لو افراد کومتاثرکرلیتا تھا اورجب علماء اسے علمی بحث کرنے کی دعوت دیتے تو کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا لہذا جواب میں کہتا تھا کہ آپ مجتہد اورعالم ہیں۔
.......
/169