ابنا: نماز ہماری اور آپ کی مرضی کا نام نہیں ہے جہاں ہم چاہیں اس میں اضافہ یا کمی کرتے رہیں اور جب چاہیں اس میں تبدیلی لے آئیں نماز اللہ کا حکم ہے اور اس کا طریقہ رسول اسلام نے بتایا ہے اگر اسی طریقے کے مطابق ہو گی تو نماز ہو گی اور اگر اس کے مطابق نہیں ہو گی تو نماز نہیں ہو سکتی۔ آپ کی مرضی کی عبادت تو ہو سکتی ہے اللہ کی مرضی کی نہیں ہو گی۔ نماز میں جہاں اہلبیت کا نام لینے کی اجازت ہے وہاں لینے سے باطل نہیں ہو گی لیکن جہاں اجازت نہیں ہے وہاں لینے سے باطل ہو جائے گی۔ سجدوں میں رکوعوں میں قنوت میں آپ تمام ائمہ معصومین کے نام لے کر ان پر درود بھیج سکتے ہیں لیکن ان جگہوں کے علاوہ نہیں۔ تشہد میں نہیں لے سکتے، سوروں میں یا ان کے آخر میں نہیں لے سکتے لہذا یہ بات کہنا صحیح نہیں ہے کہ دعا میں امام زمانہ کے نام سے کیوں نماز باطل نہیں ہوتی اور تشہد میں حضرت علی کی ولایت کی گواہی سے باطل ہوتی ہے۔ یہی گواہی آپ قنوت میں ایک بار کے بجائے دس بار دیں وہاں باطل نہیں ہو گی لیکن تشہد میں چونکہ دو ہی شہادتیں پڑھنے کا حکم ہے وہاں تیسری پڑھیں گے تو باطل ہو جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
نماز کے تشہد میں کیوں علی ولی اللہ پڑھنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے جبکہ قنوت میں امام زمانہ کا نام لیتے ہیں؟
9 دسمبر 2013 - 20:30
News ID: 487674
Salam Mera dil karta hai Mai tushud us mai Ali yun wali ullah ki Gawain don lakin sub leader khatey hain k namaz batil kya Iman Ali a.s ka namaz ana batl hail hsi ab tu dua qanoot Mai bhi imam e Zamana ki dua pari jati hai tub namaz kyu Nahi batl Salam kiya jata hai salheen ko tub kyu Nahi batil?