اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عراقی وزير خارجہ ہوشیار زیباری نے کہا ہے اگر شام میں اکٹھے ہونے والے دہشت گردوں کو اس ملک میں ایک اسلامی امارت نامی دہشت گردوں کی حکومت بنانے دیا گیا تو چونکہ وہ حکومت کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے اور کسی بھی عالمی قاعدے اور قانون کے تابع بھی نہیں ہیں لہذا دنیا مجبور ہوگی کہ ان کے خلاف عالمی سطح کا وسیع تر اقدام عمل میں لائے۔ زیباری نے قبل ازیں بھی شامی اور مشرقی شام سے مغربی عراق تک طالبان طرز کی حکومت کے قیام کے خطرے سے خبردار کیا تھا۔ ادھر عراق کی اعلی اسلامی مجلس کے رکن نے اربعین حسینی کے موقع پر عراق میں بندر بن سلطان کی گھناؤنی سازشوں سے خبردار کیا ہے۔ جلال الدین الصغیر نے کہا ہے کہ سعودی انٹیلجنس کے سرغنے بندر بن سلطان کے غلام اور کرائے کے ایجنٹ دہشت گرد عناصر سید اشہداء حضرت امام حسین (ع) کے چہلم کے موقع پر بصرہ اور عراقی کے دیگر شہروں میں حسینی عزاداروں کو آسانی کے ساتھ اپنی بربریت کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔ انھوں نے عراقی حکام پر زوردیا کہ وہ اس مسئلے پر خصوصی توجہ دیں۔
یادرہے کہ عراق اور شام میں دہشت گردی کا اصل سرپرست اور دہشت گردوں کا اصل کمانڈر سعودی انٹیلجنس چیف بندر بن سلطان بن عبدالعزیز آل سعود ہے اور اسلام کے نام پر انسانیت کے گلے پر چھری پھیرنے اور اسلامی امارت کی تشکیل کے نعرے لگانے والے بندر بن سلطان کی سرپرستی میں عالمی صہیونیت اور اسرائیل کے تحفظ کے لئے مصروف عمل ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/٭۔٭