5 دسمبر 2013 - 20:30
شام میں سعودی آپریشن روم کا سراغ مل گیا، جدید ترین آلات برآمد

غوطہ شرقیہ میں ہزاروں سعودیوں کی ہلاکت اور گرفتاری کے بعد سعودیوں کے زیر استعمال جدید ترین مواصلاتی آلات سے لیس آپریشن روم کا سراغ مل گیا جو سیٹلائٹ کے ذریعے سعودی انٹیلجنس اور فوجی ہیڈکوارٹر کے زیر انتظام دہشت گردی کی نکرانی کررہا تھا اور شامی فوج اور عوام پر ہونے والے حملوں کا انتظام کیا کرتا تھا۔ فوج نے تمام آلات کو قبضے میں لے لیا ہے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شامی فوج نے غوطہ شرقیہ میں آل سعود کے بڑے حملے کو ناکام بنانے بنانے کے بعد ایک مرکز کا سراغ لگایا جس میں جدید ترین مواصلاتی نظام موجود تھا اور یہ مرکز آپریشن روم کی حیثیت سے آل سعود کے بھجوائے ہوئے دہشت گردوں اور سعودی فوجی افسروں کے زیر استعمال تھا۔ اس مرکز میں متعدد کمرے تھے جن میں جدید ترین سیٹلائٹ مواصلاتی نظام نصب کیا گیا تھا اور اس مرکز کا انتظام سعودی فوج کے ہاتھ میں تھا اور غوطہ میں بھی سعودی فوجی افسر موجود تھے جو اس مرکز کے ذریعے ریاض میں اپنے ہیڈکوارٹر سے دہشت گردی کے لئے احکامات و ہدایات وصول کیا کرتے تھے۔ شام کے فوجی ذرائع نے بتایا کہ اس مرکز کے ذریعے سعودی دہشت گرد ریاض سمیت متعدد ممالک کے دارالحکومتوں کے ساتھ رابطہ کیا کرتے تھے چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ مرکز صرف غوطہ ہی میں دہشت گردی کرانے کے لئے نہ تھا بلکہ غوطہ غربی اور حمص کے نواح میں مہین کے علاقے میں بھی دہشت گردانہ کاروائیوں کو یہیں سے کنٹرول کیا جاتا تھا۔ شامی فوج کے اس قریبی ذریعے نے لبنانی روزنامے الاخبار کو بتایا کہ ان کمروں سے یسے نقشے برآمد ہوئے جن کے مطابق دہشت گردوں نے ریف دمشق اور ریف حمص میں مزید کئی کاروائیوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔ اس ذریعے نے مزید کہا: غوطہ شرقیہ میں سعودیوں کی بہت بھاری شکست اور ان کے مواصلاتی نظام پر سرکاری افواج کے قبضے کے نتیجے میں باقی ماندہ دہشت گردوں کے لئے کوئی چارہ باقی نہ رہا چنانچہ وہ اس علاقے سے القلمون اور غوطہ غربی کی طرف فرار ہونے پر مجبور ہوگئےادھر ایک شامی فوجی کمانڈر نے کہا: مہین اور القلمون کے علاقوں میں بہت زیادہ دہشت گرد غیرملکی اور غیر عرب تھے جو اعلی تربیت یافتہ تھے اور وہ عراق اور افغانستان میں لڑنے اور دہشت گردانہ کاروائیوں کا تجربہ رکھتے تھے۔ قبل ازیں بعض دستاویزات شائع ہوئی تھیں کہ سعودی فوجی اور عام دہشت گرد شام میں وجود ہیں اور باقی دہشت گردوں کو  بھی آل سعود کی مالی اور عسکری سربرستی حاصل ہے جس کے بعد حکومت شام نے سینکڑوں سعودی دہشت گردوں کی لاشیں سعودی سفارتخانے کے سپرد کیں اور پھر اعلی سعودی اہلکار کا ایک بیٹا شام میں مارا گیا اور ایک سعودی کرنل شامی افواج کے ہاتھوں گرفتار ہوآ اور غوطہ میں انتہاہوئی جہاں بعض ذرا‏ئع کے مطابق ہزاروں سعودی باشندے مارے گئے اور 300 گرفتار ہوئے جن میں سعودی فوجی اہلکار اور سزا یافتہ سعودی مجرمین شامل ہیں اور اب ان کا آپریشن سینٹر بھی قبضے میں لےلیا گیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭