4 دسمبر 2013 - 20:30
شام: حکومت مخالف تنظیم کا القاعدہ کے خلاف جنگ اور فوج کے ساتھ تعاون کا اعلان

فری سیرین آرمی کے نامی دہشت گرد تنظیم کے سربراہ سلیم ادریس نے شام میں القاعدہ سے وابستہ تنظیموں کے خلاف جنگ اور سرکاری افواج کے ساتھ تعاون کا اعلان کیا ہے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق سلیم ادریس کے اس بیان نے زیادہ تر برطانوی اخبارات کو اس اعلان میں مصروف کر دیا ہے۔ سلیم ادریس نے لندن سے شائع ہونے والے اخبار "ٹائم" کو انٹرویو دیتے ہوئے شام میں القاعدہ اور اس کی ذیلی تنظیموں کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت مخالف مسلح تنظیمیں ملک میں القاعدہ کے خلاف جنگ میں سرکاری افواج کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ٹائم نے سلیم ادریس کے حوالے سے لکھا ہے کہ شام میں تین گروپ لڑرہے ہیں: ایک۔ سرکاری افواج، دو۔ انقلابی فورسز! اور تین۔ القاعدہ سے وابستہ شدت پسند تنظیمیں۔ ادریس نے 2014 کو پہلے مہینے میں منعقد ہونے والی جنیوا کانفرنس 2 کی آمد آمد پر اپنے مطالبات میں کمی کرتے ہوئے صدر بشار اسد کی برطرفی کا مطالبہ ترک کردیا ہے اور کہا ہے کہ صدر کی برطرفی کا مطالبہ کانفرنس کے بعد سامنے آسکتا ہے۔ واضح رہے کہ صدر بشار الاسد نے حال ہی میں اردنی سیاستدانوں کے ایک گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ "میرے سپاہی مخالف گروپوں میں بھی کم نہيں ہیں اور وہ موقع پاکر ملک اور قوم کے مفاد میں اقدامات کرتے ہیں"، اور اب فری سیرین آرمی کی طرف سے القاعدہ اور اس کی ذیلی تنظیموں داعش اور النصرہ کے خلاف اعلان جنگ سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگ کے میدان میں صورت حال مکمل طور پر بشار الاسد اور ان کی حکومت کے حق ميں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/٭۔٭