2 دسمبر 2013 - 20:30
شام میں دھشت گرد گروہ بچوں سے غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں

شام کے بحرانی علاقوں میں تکفیری دھشتگردوں کے ساتھ ایک 13 سالہ مراکشی بچے کی تصاویر کے شائع ہونے کے ساتھ ہی ایک مرتبہ پھر اس جنگ میں بچوں سے غلط فائدہ اٹھانے کا موضوع انسانی و بچوں کے حقوق کی مدافع تنظیموں کے لئے ایک بڑے چیلنج میں تبدیل ہوگیا ہے۔

ابنا: حال ہی میں سماجی ویب سائٹوں نے ایک مراکشی  بچے " اسامہ الشعرہ " کی تصاویر اسی حالت میں شائع کی ہیں کہ اس کے ہاتھوں میں آتشی ہتھیار ہیں اور وہ شام کے جنگ زدہ علاقوں میں تکفیری گروہوں کی مدد میں مصروف ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق اس بچے کا والد اپنے پانچ بچوں کو شام کی جنگ میں ساتھ لایا ہے۔ مراکش کی نیوز سائٹوں نے تاکید کی ہے کہ "اسامہ الشعرہ" کہ جس نے اپنے والد کے ساتھ ہمراہی سے قبل " طنجہ " کی بدامنی میں شرکت کی ہے ، اس مرتبہ اپنے والد کے ساتھ ترکی کے راستے شام کی سرزمین میں داخل ہوا ہے۔ موصولہ رپورٹ کے مطابق اس بچے کا والد " احمد الشعرہ " مراکش میں سگریٹ و چوری کے سامان کی اسمگلنگ میں مشغول رہا ہے، اور مراکش میں سلفی سلسلوں کی مدد سے اپنے آپ کو شام تک پہنچانے میں کامیاب ہوا ہے۔ شام بھیجنے کے لئے " احمد الشعرہ " کو پہلے ہالینڈ بھیجا گیا اور وہاں سے وہ  ترکی کے راستے شام میں داخل ہوا ہے۔ مراکش کے ایک سماجی کارکن اور نامہ نگار " حسن الحداد " نے " الیوم 24 " نیوز ویب سائٹ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مراکشی بچوں کی ایک بڑی تعداد مختلف راستوں سے شام بھیجی گئی ہے، " حسن الحداد " نے مزید کہا کہ " بنی مکادہ " کا علاقہ اور " اسامہ الشعرہ " کا رہائشی علاقہ"طنجہ" بھی اس قسم کی سرگرمیوں کے حوالے معروف علاقے سمجھے جاتے ہیں۔ اس علاقے کے باشندوں نے " اسامہ الشعرہ " کو سلفی تکفیریوں کے قیدیوں کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں میں اپنے والد " احمد الشعرہ " کے ساتھ پیش پیش دیکھا ہے۔ مراکش میں ہیوم سائنسز کے کالج میں سماجیات کے پروفیسر " علی الشعبانی " نے مراکش کی " ایلاف " نیوز ویب سائٹ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس بچے کا والد ایک کٹر سلفی ہے اور اس نے اپنے بچوں کے ساتھ شام میں تکفیری سلفیوں کی دھشتگردانہ کاروائیوں میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ جبکہ یہ ایسی صورت حال میں ہے ان بچوں کی اصلی ترین جگہ اسکول ہیں نہ کہ میدان جنگ ۔ بعض خبروں سے نشاندہی ہوتی ہے کہ شام میں جنگ کے آغاز سے لیکر اب تک 600 مراکشی جنگجو شام میں ہلاک ہوچکے ہیں۔ دوسری جانب  شام میں گذشتہ تین برسوں میں ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں 11 ہزار بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ العالم کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے سامنے آنے والے اعداد و شمار سے نشاندہی ہوتی ہے کہ مارچ 2011 سے لیکر اگست 2013 تک کے عرصے کے دوران شام میں ہونے والی بد امنی و جھڑپوں کے نتیجے میں 11 ہزار شامی بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق زیادہ تر بچے رہائشی علاقوں پر بموں اور مارٹر گولوں کے حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ آکسفورڈ ریسرچ گروپ کی جانب سے انجام پانے والی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ 17 سال سے کم عمر ہلاک ہونے والے 11 ہزار 421 بچوں میں سے 390 بچے فائرنگ کے نتیجے میں مارے گئے ہیں۔ اس رپورٹ میں آیا ہے کہ اس مجموعی تعداد میں سے 765 افراد کو فوری طور پر موت کی سزا دے دی گئی اور تقریبا 100 سے زیادہ نومولود بچوں کو شکنجے دیکر مارا گیا ہے۔ اس ریسرچ گروپ کی ایک رکن " ھانا سلامۃ " کا کہنا ہے کہ بچوں کو قتل کرنے کے لئے جن روشوں کا انتخاب کیا گیا وہ نہایت ہی دردناک ہیں اور بچوں کی لاشوں کو اسکولوں ، محلوں ، روٹی کی لائنوں اور کھیل کے میدانوں میں بھی دیکھا گیا ہے، جبکہ بعض بچوں کو براہ راست فائرنگ کر کے قتل کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ تعداد ان افراد کی ہے کہ جن کی شناخت ممکن ہوسکی ہے ، لیکن ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جن کی شناخت ہی ممکن نہیں ہے۔ یادرہے کہ شام میں 2011 سے بدامنی کا سلسلہ جاری ہے اور بعض مغربی ممالک اور اسی طرح بعض عرب ملکوں منجملہ سعودی عرب و قطر کے حمایتی یافتہ دھشتگرد شام میں بدامنی پھیلارہے ہیں۔

.......

/169