اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق لبنانی روزنامے "الاخبار" نے ہفتے کے روز لکھا ہے کہ عرب ممالک کے سیاسی اور جماعتی راہنماؤں نے 10 روز قبل دمشق میں صدر بشار الاسد سے ملاقات کی اور بشار الاسد نے ان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت شام دہشت گردی کے خلاف حالت جنگ میں ہے اور آل سعود اور دیگر عرب حکام کی طرف سے دہشت گردوں اور تکفیریوں کی امداد بحران کے حل کو مؤخر کرے گی۔ انھوں نے کہا: ہم کئی محاذوں پر تکفیریوں اور دہشت گردوں کے خلاف نبرد آزما ہیں اور اگر جنیوا کانفرنس 2 میں ہم سے کوئی کہے کہ اقتدار کو کسی اور کے سپرد کریں تو ہم اس کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے۔ مشرقی اور مغربی عرب ممالک کے وفد نے دمشق میں منعقدہ عرب جماعتوں کی کانفرنس کے موقع پر صدر بشار الاسد سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں شریک ایک عرب سیاستدان نے روزنامہ الاخبار کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اس ملاقات کی تفصیلات بیان کیں اور کہا کہ صدر اسد نے شام کی موجودہ صورت حال کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا: ہمیں ایک بڑی جنگ کا سامنا کرنا پڑا اور ہمیں ابتدا میں استقامت اور پامردی پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت تھی چنانچہ پہلے سال کے دوران میں ہم نے ایسا ہی کیا اور اس کے بعد دشمن پر فتح یابی کے مرحلے میں داخل ہوئے۔ انھوں نے کہا: اس طرح کی جنگ کی مثالیں ہماری حالیہ تاریخ میں پائی جاتی ہیں جن میں ـ سنہ 2000 اور سنہ 2006 میں لبنان کی اسلامی مزاحمت تحریک کی کامیابیاں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ بشار الاسد نے کہا: ہم نے ابتداء ہی میں اس راز کو بھانپ لیا تھا کہ یہ جنگ ہماری مستقل اور غیر وابستہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور یہی مستقل پالیسی ہماری پامردی اور کامیابی کا اصل سبب تھا؛ گوکہ ہم اپنے حلیفوں کی حمایت کو محترم سمجھتے ہیں۔ روس سمیت ہمارے بعض حلیفوں نے اہم اور بنیادی کردار ادا کیا ہے؛ روس ہمارے ساتھ کھڑا ہے کیونکہ اس ملک کے مفادات کو بھی خطرہ ہے۔ میں نے بلاواسطہ طور پر روسی راہنماؤں سے سنا کہ دمشق کے ساتھ قریبی تعاون کا سبب صرف دمشق کو ہی بچانا نہیں ہے بلکہ یہ ماسکو کا دفاع بھی ہے۔ شامی صدر نے بحران کے حل کرنے کے لئے مؤثر علاقائی فریقوں کی طرف سے شام میں دہشت گردی کرنے والے مسلح گروہوں کی حمایت کے خاتمے کو ضروری قرار دیا اور کہا: شام کے بحران کے خاتمے کے لئے وقت کا تعین علاقائی قوتوں کی طرف سے دہشت گردوں کی حمایت اور امداد کے خاتمے سے وابستہ ہے۔ انھوں نے کہا: سعودی عرب اور بعض دوسرے ممالک پوری قوت سے دہشت گردی کی حمایت کررہے ہیں اور ان کی مدد سے ہزاروں دہشت گرد شام میں آپہنچے ہیں اور آل سعود کی جارحیت یہاں تک پہنچی ہے کہ وہ اب وہ شام کے خلاف لڑنے والے ہر دہشت گرد کو 2000 ڈالر ماہانہ تنخواہ دے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا: دوسرا مسئلہ عراق کی طرف سے القاعدہ کی دراندازی کا مسئلہ ہے جس کا سد باب کرنے کے لئے بغداد میں عراقی حکام کام کررہے ہیں اور ان کا مقابلہ کررہے ہیں لیکن مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہوسکا ہے۔ انھوں نے کہا: سعودی حکام کی طرف سے دہشت گردوں کی حمایت بند ہونے سے ملک میں جاری بحران پر فوری اور قطعی اثرات مرتب ہونگے؛ جبکہ دوسری طرف سے دہشت گرد تنظیمیں اور ان کے غیر ملکی سرپرست ہماری افواج کی طاقت سے حیرت زدہ ہوئے ہیں اور پھر آج سب جانتے ہیں کہ القاعدہ صرف شام کے لئے ہی خطرناک نہيں ہے۔ انھوں نے کہا: ہمیں امید ہے کہ آنے والے مہینوں میں ہم ایک منطقی راہ حل تک پہنچیں گے لیکن اس کے لئے مسلح گروپوں کا مؤثر مقابلہ ضروری ہے۔ انھوں نے کہا: موجودہ صورت حال کے پیش نظر، میرا نہيں خیال کہ حالات مستقبل قریب میں ٹھیک ہونگے؛ جب تک شام کی سرحدوں سے نقد رقوم اور ہتھیاروں کی ترسیل جاری رہے گی اور جب تک بعض ممالک دہشت گردوں کو ہمارے ملک میں بھجواتے رہیں گے، ہم ان کا تعاقب جاری رکھیں گے اور دنیا کی کوئی بھی قوت ہمیں اپنی سرزمین کے تحفظ سے نہيں روک سکے گی۔ آج کوئی بھی ایسی شیئے ہمارے سامنے نہيں ہے جس پر ہم جنیوا میں کسی کے ساتھ مفاہمت کریں جبکہ بعض لوگ اس توہم میں مبتلا ہیں کہ ہم جنیوا جاکر اقتدار ان کے حوالے کریں گے۔ انھوں نے ان تنظیموں اور افراد کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا: اگر وہ اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں شام آنا چاہئے تا کہ ہم یہيں اس کو ان کے سپرد کریں؟ انھوں نے کہا: انھوں نے اگر فیصلہ کیا ہے کہ بیرون ملک تعینات اپوزیشن لیڈر احمد الجربا کو صدر بنائیں تو کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ان میں شام آنے کی جرأت ہے؟ صدر اسد نے کہا: سعودی حکمران پوری عرب دنیا میں وسیع ترین تخریبی کاروائیوں کی قیادت کررہے ہیں؛ انھوں نے خلیج فارس کی ساحلی ریاستوں کے حمکرانوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ اسرائیل مخالف ممالک کے خلاف جنگ میں ان کا ساتھ دیتے رہیں؛ آل سعود نے صہیونی ریاست کے ساتھ مصر کے کیمپ ڈیویڈ معاہدے کے لئے حمایتی چھتری فراہم کی اور 1982 میں لبنان پر یہودی ریاست کے حملے کی حمایت کی اور آج شام کے خلاف بھرپور دہشت گردانہ جنگ لڑ رہے ہیں۔ صدر بشار الاسد نے کہا: آج ہم پوری صراحت کے ساتھ سعودی حکمرانوں سے کہتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں؛ یہ درست ہے کہ ماضی میں ہم نے ان کی مدد کی ہے لیکن وہ ہرچیز کو اپنے خاص قسم کے تصورات و تفکرات اور مفادات کی بنیاد پر چاہتے ہیں۔ انھوں نے شام کی مخالف تنظیموں کے مغربی حامیوں سے مخاطب ہو کر کہا: سامراج مغرب بدستور اپنی متکبرانہ ذہنیات کے مطابق عمل کرتا ہے اور ان کی روش کچھ ایسی ہے کہ گویا گذشتہ دو عشرے نہيں گذرے ہیں، عراق میں امریکہ کی عبرتناک شکست کو نظر انداز کرتے ہیں اور لگتا ہے کہ سوویت یونین کل ہی شکست و ریخت کا شکار ہوا ہے اور امریکہ بلا منازع عالمی قوت ہے۔ انھوں نے عالم عرب اور عرب لیگ کی صورت حال کے بارے میں کہا: اگر عرب لیگ ـ خلیج فارس کی عرب ریاستوں کی اندرونی حالت کی مانند ـ پسماندہ حکمرانوں کے زیر تسلط رہے تو اس کا کردار ہرگز مؤثر نہ ہوگا جبکہ تمام عرب ممالک اپنے فیصلوں میں بیرونی اشاروں کے محتاج نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا: مثال کے طور پر آج عراق میں نوری المالکی کی طرح شجاع مرد ڈٹ کر کھڑا ہے لیکن خلیج فارس کی عرب ریاستیں عراق کو تباہ و برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔انھوں نے کہا: آج اہم ترین مسئلہ مصر کی صورت حال کی طرف توجہ دینا ہے اور ہمارا اور زیادہ تر عربوں کا خیال ہے کہ جو لوگ قاہرہ میں آج باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں وہ امریکہ سے برملا کہتے ہیں کہ "ہمارے اندرونی معاملات کا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے"؛ بہت اہم موقف ہے اور اس کی حمایت ہونی چاہئے۔ انھوں نے شام اور عرب دنیا میں سیاسی جماعتوں کی صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: سیاسی جماعتوں کے فقدان سے وجود میں آنے والا خلا تکفیری گروہوں کے ظہور پذیر ہونے کا سبب ہے، کیونکہ بہت سے عرب ممالک میں اصولی طور سیاسی جماعتیں نہیں ہیں اور جن ممالک میں سیاسی جماعتیں موجود ہیں ان میں عصری تقاضوں کے مطابق تبدیلی نہیں لائی جاسکی ہے اور کمزور ہیں؛ اور ہم اپنے ملک میں ـ ایک جماعت کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک حکومت کی حیثیت سے جماعتوں کو تقویت پہنچانے کا اہتمام کئے ہوئے ہیں اور ساتھ ساتھ ہم عالم عرب ـ خاص طور پر مغربی عرب ممالک ـ کے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ان پر نیٹو کے ممکنہ تسلط سے فکرمند ہیں۔ صدر اسد نے عرب دنیا میں تکفیری وہابیت کے وسیع پھیلاؤ کے سلسلے میں خبردار کرتے ہوئے کہا: اس صورت حال کے باعث دینی اداروں کو ایک نئی نگاہ سے دیکھنے کی ضرورت واضح ہوجاتی ہے تاہم اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ شہریوں کے حقوق کے مطابق ایک شہری نظام (Civil System) موجود ہو۔ بہت زیادہ کوششیں ہورہی ہیں کہ عرب دنیا کی نوجوان نسل غفلت کا شکار رہے۔ ہم سے قبل والی نسل ہم سے زیادہ ہوشیار تھی۔ تکفیریت اور وہابیت کے فروغ کا مقصد بھی یہی ہے کہ عرب دنیا بدستور پسماندگی کا شکار رہے۔ میں آپ کو یاددہانی کرانا چاہتا ہوں کہ مغربی دنیا کبھی بھی ہماری ترقی نہيں چاہتی۔ مجھے یاد ہے کہ 2003 میں سابق امریکی وزیر خارجہ کالین پاول نے مجھ سے ملاقات کی اور عراق پر قبضے کے بعد اپنے ملک کی شرطیں پیش کیں اور مجھ سے کہا: شام کسی صورت میں بھی عراقی سائنسدانوں کو اپنی سرزمین پر نہ رکنے دے لیکن ہم نے ان کی یہ درخواست مسترد کردی اور ہم نے دیکھا کہ امریکی اور صہیونی خفیہ ایجنسیوں نے ان سائنسدانوں کی ایک بڑی تعداد کو قتل کیا اور آج وہ ایران میں بھی سائنسدانوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ بشار الاسد نے بہت سی عرب اقوام کی دوبارہ بیداری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عرب دنیا کی بہت سے احتجاجی جلوسوں میں جمال عبدالناصر کی تصاویر کی نمائش اس حقیقت کی واضح مثال ہے کہ عرب دنیا جاگ رہی ہے۔ انھوں نے کہا: ہم اس دینی قوت کو مسترد کرتے ہیں جو تکفیری اور وہابی تفکر کی بنیاد پر کام کرتی ہو اور ایسی قوت کو تسلیم نہیں کرتے۔ انھوں نے کہا: آج شام، ایران اور حزب اللہ دنیای اسلام میں فرقہ وارانہ فتنوں کا سد باب کرنے کے لئے بھرپور کوششیں کررہے ہیں۔ صدر اسد کے بیان کردہ مزید نکات: ٭ عرب دنیا کی تمام سیاسی جماعتیں اور سماجی تنظیمیں جان لیکں کہ عرب دنیا میں تکفیری تفکرات کا مقابلہ کرنے کے لئے تمام تر کوششوں کو ہمآہنگ کرنا چاہئے۔ ٭ ماضی میں عرب تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کی عدم فعالیت کی وجہ سے بعض مغربی تفکرات اور تحریکوں نے جنم لیا ہے اور وہ ہمارے ممالک میں اپنی فکر کا پرچار کررہی ہیں۔ ٭ آنے والے مراحل میں سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کے کردار کا احیاء کرکے عرب سیاسی جماعتوں کے درمیان قریبی تعلقات قائم کرنا ضروری ہے تاکہ عرب اقوام کی بہتر خدمت کو یقینی بنایا جاسکے۔ ٭ تکفیریوں کے خلاف ہمآہنگ اور مربوط کوششوں کی ضرورت ہے کیونکہ انھوں نے عرب دنیا کی ترقی کا راستہ روکے رکھا ہے اور عرب ممالک میں عرب تشخص کو اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔ ٭ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ شام کامیاب ہوکر رہے گا۔ ٭ آل سعود بعض بین الاقوامی اور علاقائی مفاہمتوں کو ناکامی سے دوچار کرنا چاہتے ہیں اور ریاض کی کوشش ہے کہ جنیوا 2 کانفرنس کو ملتوی کرا دے۔ ٭ ہم سے کہا گیا ہے کہ جنیوا کانفرنس میں احمد عاصی الجربا کو اقتدار سونپ دیں اور اگر جنیوا 2 کانفرنس کا مقصد یہی ہو تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم بھی اس کانفرنس میں شرکت کریں۔ ٭ ہر وہ کانفرنس ناکام رہے گی جس میں شامی عوام اور سیاستدان ملک کے مستقبل کی خاکہ کشی نہ کریں۔ ٭ ہمارے مخالفین اپنے ملک میں لوٹ کر آسکتے ہیں لیکن انہیں ملک می قبول کرنے کے لئے بعض اصولی اور اخلاقی دائرے موجود ہیں جن کے اندر ہی ان کو قبول کیا جائے گا؛ دمشق ان کے ساتھ مصالحت کرسکتا ہے لیکن ان لوگوں کو معاف نہيں کرسکتا جنہوں نے شام کے ساتھ غداری کی ہے اور اس ملک کے عوام کا خون بہایا ہے۔ ٭ جس وقت ہم نے لبنان اور اسلامی مزاحمت تحریک کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اسی وقت سے جانتے تھے کہ حالات کیا ہوسکتے ہیں کیونکہ شامی قوم نے اپنے ارادے میں استقلال اور خودمختاری کو بنیاد بنایا ہے؛ ہم لبنان کے ساتھ ہیں او
30 نومبر 2013 - 20:30
News ID: 485169
صدر بشار الاسد نے کہا ہے کہ جب تک آل سعود کی طرف سے تکفیری بھجوائے جاتے رہیں گے اور ان کی مالی اور عسکری امداد جاری رہے گی شام اور سعودی حکومت کے درمیان یہ جنگ جاری رہے گی۔