ابنا: جنيوا ميں ايران اور گروپ پانچ جمع ايک کے درميان تيسرے دور کے مذاکرات بدھ کو ہوں گے- مذاکرات ميں شرکت کے لئے ايران کي ٹيم وزير خارجہ محمد جواد ظريف کي قيادت ميں منگل کو روانہ ہوئي –وزير خارجہ راستے ميں روم ميں تھوڑي دير قيام اور اپني اطالوي ہم منصب اما بنينو سے ملاقات اور باہمي روابط نيز عالمي حالات پر گفتگو کے بعد جنيوا روانہ ہوجائيں گے –ايران کے وزير خارجہ محمد جواد ظريف نے ايران اور گروپ پانچ جمع ايک کے درميان سمجھوتے کے بارے ميں کہا ہے کہ سمجھوتے کا متن ، مشترک اہداف، اور ابتدائي اور آخري اقدامات پر مبني ہونا چاہئے –انہوں نے کہا کہ اہداف اور آخري مرحلے پر اتفاق رائے کے بغير صرف پہلے مرحلے پر سمجھوتہ نہيں ہوسکتا- ايران اور گروپ پانچ جمع ايک کے درميان دوسرے دور کے مذاکرات سات نومبر سے نو نومبر تک جنيوا ميں ہوئے تھےمذاکرات ماہرين اور معاونين کي سطح پر شروع ہوئے تھے اور اہم پيشرفت کے بعد متعلقہ ملکوں کے وزرائے خارجہ بھي جنيوا پہنچ کے مذاکرات ميں شريک ہوگئےان مذاکرات ميں ايران اور پانچ جمع ايک معاہدے کے کافي نزديک پہنچ چکے تھے ليکن آخري لمحات ميں فرانس کي وجہ سے سمجھوتہ نہ ہوسکا اور طے پايا کہ بيس نومبر کو جنيوا ميں سمجھوتے کے متن کے بارے ميں مذاکرات ہوں گے- تيسرے دور کے مذاکرات کا وقت نزديک آنے پر فرانس کے صدر فرانسوا اولينڈ تل ابيب گئےرپورٹوں ميں بتايا گيا ہے کہ صيہوني حکومت نے فرانسوا اولينڈ سے کہا ہے کہ ايران کے ساتھ سمجھوتے کي مخالفت جاري رکھيں – اسي کے ساتھ فرانس کے صدر نے اتوار کو ايران اور گروپ پانچ جمع ايک کے درميان سمجھوتے کے لئے صراحت کے ساتھ چار شرائط پيش کي ہيں - ان کي پہلي شرط يہ ہے کہ ايران کي تمام ايٹمي تنصيبات بين الاقوامي نگراني ميں ہوں -دوسري شرط يہ ہے کہ ايران يورينيئم کي بيس فيصد افزودگي بند کرے –تيسري شرط يہ ہے کہ ايران افزودہ يورينئم کے ذخيرے ميں کمي کرے اورآخري شرط يہ ہے کہ ايران کي اراک کي بھاري پاني کي ايٹمي تنصيبات بند کي جائيں – اگرچہ يہ مطالبات نئے نہيں ہيں ليکن موجودہ حالات ميں فرانس کے صدر نے ان کي تکرار کرکے صيہوني حکومت کے ترجمان کا کردار ادا کيا ہے اور اس کا مقصد ايران پر نفسياتي دباؤ بڑھانےکے علاوہ اور کچھ نہيں ہے –اولينڈ کے بيان سے پہلے ايران کے وزير خارجہ محمد جواد ظريف بارہا واضح کرچکے ہيں کہ ملک کے اندر يورينيئم کي افزودگي ايران کا مسلمہ حق ہے اور اس کے بارے ميں مذاکرات نہيں کئے جائيں گے- دوسري طرف يورپي يونين کے شعبہ خارجہ پاليسي کي سربراہ محترمہ کيتھرن ايشٹن نے جو ايٹمي مذاکرات ميں گروپ پانچ جمع ايک کي ٹيم کي قيادت کرتي ہيں، برسلز ميں ايک پريس کانفرنس ميں اعلان کيا ہے کہ ہمارا مقصد اعتماد سازي کے راستے تک پہنچنا ہے –انہوں نے کہا کہ "ايران کے ايٹمي پروگرام کے پر امن ہونے کے پيش نظر گزشتہ تين سال ميں ہم نے اس ہدف تک پہنچنے کي ہي کوشش کي ہے - "روس کے ايوان صدر کرملن ہاؤس نے بھي پير کي شام ايران کے صدر ڈاکٹر حسن روحاني سے صدر ولاديمير پوتن کي ٹيليفوني گفتگو کے بعد اعلان کيا ہے کہ اس ديرينہ اور پرانے مسئلے کے حل کي راہ تک پہنچنے کا امکان اس وقت سب کے سامنے موجود ہے- " ادھر امريکا ميں حکمران اور حزب اختلاف، دونوں پارٹيوں کے انتہا پسند دھڑے نے ايران کےخلاف پابندياں بڑھانے کي مہم تيز کردي ہےليکن امريکي صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ وہ منگل کو سينٹ کي انفارميشن، دفاع ، خارجہ روابط اور بينک کاري سے متعلق کميٹيوں ميں سينئر ريپبليکن اور ڈيموکريٹ اراکين سے ملاقات ميں ان سے درخواست کريں گے کہ ايران کے خلاف پابندياں بڑھانے سے گريز کريں تاکہ ايٹمي مذاکرات ميں کاميابي حاصل کي جاسکے –بہرحال جيسا کہ ايران کے صدر ڈاکٹر حسن روحاني نے روس کے صدر ولاديمير پوتن کے ساتھ ٹيليفوني گفتگو ميں کہا ہے، ايران اور گروپ پانچ جمع ايک کے درميان مذاکرات ميں پيشرفت ہوئي ہے، ان حالات ميں اگر بعض فريقوں نے زيادہ مطالبات پيش کئے تو کسي ايسے سمجھوتے کا حصول مشکل ہوجائے گا جس ميں کسي کي بھي ہار نہ ہو بلکہ سب کي جيت ہو-بہرحال بدھ کوجنيوا ميں ايران اور گروپ پانچ جمع ايک کے درميان مذاکرات شروع ہورہے ہيں اور بعض فريقوں کي جانب سے روکاوٹيں ڈالنے کي کوششوں کے باوجود فضا کافي سازگار ہے ليکن کسي قابل قبول نتيجے کا حصول فريق مقابل کي کارکردگي اور خلوص نيت پر منحصر ہے -
.......
/169