18 نومبر 2013 - 20:30
ایران اور روس کے صدور کی ٹیلیفونک گفتگو

ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ایٹمی مذاکرات کے نئے مرحلے میں روس اور ایران کے صدور نے ٹیلیفونی گفتگو کی ہے ۔ اس ٹیلیفونی گفتگو میں ڈاکٹر روحانی اور پوٹین نے دوطرفہ تعلقات ، علاقائی تبدیلیوں اور ایٹمی مذاکرات کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا ۔

ابنا: ڈاکٹر حسن روحانی نے تہران اور ماسکو کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے استحکام پر تاکید کی ۔ صدر مملکت جناب روحانی نے شام کے مسائل کے بارے میں تہران اورماسکو کے مشترکہ نظریات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سبھی با اثر ممالک اس نتیجے پر پہنچے ہيں کہ اس بحران کی راہ حل ، جنگ نہیں ہے ۔ ڈاکٹر روحانی نے جنیوا ميں ایران اور مغرب کے مذاکرات میں اچھی پیشرفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ توسیع پسندی مذاکرات کی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے ۔ روسی صدر ولادیمیر پوتین نے بھی اس ٹیلیفونک گفتگو میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں مثبت تبدیلیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ایران اور روس کے درمیان دوستانہ اور طولانی مدت روابط مستحکم کرنے کے اپنے ارادے پر تاکید کی اور کہا کہ روس ایٹمی مذاکرات کی کامیابی کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا ۔ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان اس سے قبل سات سے نو نومبر تک جنیوا میں مذاکرات ہوئے تھے لیکن ان مذاکرات میں جس نتیجے کی توقع کی جارہی تھی وہ فرانس کی مخالفت کے سبب حاصل نہ ہوسکا اور چونکہ اختلافات کی وجہ گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان فرانس کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کیا جانا ہے اس لۓ اب اگر ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتے ہیں یا یہ تعطل کا شکار ہوتے ہیں تو اس کی ساری ذمےداری گروپ پانچ جمع ایک پر ہی عائد ہوگي۔واضح رہے کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات کا اگلا دورکل 20 نومبر سے جنیوا میں شروع ہورہا ہے ۔

.......

/169