16 نومبر 2013 - 20:30
کرفیو میں گھرے شہر راولپنڈی کی روداد

گمان کیا جا رہا ہے کہ اتوار کا دن راولپنڈی کے شہریوں کیلئے اور بھی بھاری ثابت ہو گا، کیوں کہ کالعدم سپاہ صحابہ اور دیوبند مکتب کی دیگر جماعتوں نے آٹھ افراد کی نماز جنازہ لیاقت باغ میں ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ احمد لودھیانوی اور مولانا سمیع الحق کی مشترکہ پریس کانفرنس میں میڈیا کو بتایا گیا ہے کہ دیوبند کے علماء پہلے جامعہ تعلیم القرآن جائیں گے جس کے بعد لاشیں اٹھا کر وہ لیاقت باغ کی طرف آئیں گے۔

ابنا: اسلام آباد سے متصل شہر راولپنڈی میں یوم عاشور کے جلوس میں ہونے والی کشیدہ صورتحال کے بعد شہر بھر میں کرفیو نافذ ہے لیکن شائد یہ صرف عام شہریوں کیلئے ہے، کیوں کہ ابتک کی اطلاعات کے مطابق، تکفیریوں کی جانب سے پانچ امام بارگاہوں کو نذر آتش کردیا گیا ہے جبکہ اہل تشیع کے گھروں پر بھی بار بار حملے کیے جا رہے ہیں اور آوازیں دی جا رہی ہیں کہ باہر نکلو ہم تم سے نمٹ لیتے ہیں۔ شہر میں کرفیو کے باعث عام شہریوں سے رابطہ نہ ہونے کے بابر ہے۔ دن بھر کی کوشش کے بعد 'اسلام ٹائمز' کی مقامی عزادار سعید رضوی سے ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ بڑی مشکل سے اسلام آباد پہنچے ہیں، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کا گھر اسلام آباد کے ساتھ گزرنے والی شاہراہ آئی جے پی کے ساتھ واقع ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ یہاں پہنچے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

سعید رضوی کے بقول کہ گذشتہ روز کا واقعہ مولوی صاحب کی نفرت آنگیز تقریر کی وجہ سے پیش آیا، مسجد سے پتھراو اور فائرنگ کے تبادلے نے اتنا بڑا سانحہ کھڑا کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ کرفیو کے اعلان کے بعد بہت سار ے لوگ گھروں کو چلے گئے لیکن علَم اور تعزیہ کے ساتھ فقط چند درجن افراد رہ گئے جنہوں نے بڑی مشکل سے تعزیوں کو امام بارگاہوں میں لانے میں مدد کی، اس دوران راستے میں سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں نے ان سے لڑائی کی، کالعدم جماعت کے دہشت گردوں نے ان پر فائرنگ کردی جس سے ان کے کئی لڑکے زخمی ہو گئے جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔ سعید رضوی کے بقول، اسپتال میں بھی تکفیری افراد پہنچ گئے اور ہاں پر بھی صورتحال کشید ہو گئی۔ ان کے بقول جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب قدیمی امام بارگاہ اور موتی بازار سے ملحق بوہڑ بازار میں واقع حفاظت علی شاہ امام بارگاہ سمیت دیگر امام بارگاہوں کو نذر آتش کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دوران ہم ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو کو فون کرتے رہے لیکن ان کی طرف سے معذرت کی جاتی رہی۔

ہفتہ کا دن جڑواں شہروں کے باسیوں کیلئے کسی کرب سے کم نہ تھا، اسلام آباد میں مقیم لوگ اپنوں کی خیریت دریافت کرنے کیلئے بار بار راولپنڈی کا رخ کرتے رہے لیکن فیض آباد فوج کے جوان تعینات دیکھ کر واپس مایوس لوٹ آتے۔ راولپنڈی کے مقامی افراد جو کسی وجہ سے اسلام آباد پھنس گئے وہ کافی پریشان دکھائی دئیے۔ ان کے بقول ان کا اپنے گھر والوں سے رابطہ نہیں ہو پا رہا، مقامی افراد کا کہنا تھا کہ ان کی آخری بار جب گھر والوں بات ہوئی تو اطلاع ملی کہ ان کے گھر والوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

دوسری جانب مذہبی قائدین کی طرف سے صرف بیانات پر ہی اکفتاء کیا جا رہا ہے۔ ابتک قوم کو کوئی ٹھوس لائحہ عمل نہیں دیا گیا اور نہ ہی اس پر کسی مذہبی و سیاسی جماعت کی طرف سے پریس کانفرنس کی گئی ہے۔ بیرون دنیا میں مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد بھی راولپنڈی کے شہریوں کی خیریت دریافت کرتی رہی۔ موبائل سروس کی بندش کے باعث لوگوں کا اپنوں سے رابطہ نہیں ہو پا رہا تاہم وائبر اور سکائپ کی سہولت نے کئی افراد کی اس مشکل کو کسی نہ کسی حد تک آسان بنا دیا ہے۔ لوگوں کا زیادہ تر پی ٹی سی ایل پر رابطہ ہو پا رہا ہے۔

انتظامیہ کی جانب سے ہفتہ اور اتوار کے درمیانی شب رات 9 بجے سے 12 بجے تک تین گھنٹے کیلئے کرفیو میں نرمی کی گئی۔ لیکن یہ نرمی شائد کسی کے کام نہ آسکی، کیوں کہ اکثر دکانوں کو خوف کی وجہ سے بند رکھا گیا۔ انتظامیہ کی طرف سے میڈیا کے نمائندوں کو بھی راولپنڈی شہر میں جانے سے روک دیا گیا۔

گمان کیا جا رہا ہے کہ اتوار کا دن راولپنڈی کے شہریوں کیلئے اور بھی بھاری ثابت ہو گا، کیوں کہ کالعدم سپاہ صحابہ اور دیوبند مکتب کی دیگر جماعتوں نے آٹھ افراد کی نماز جنازہ لیاقت باغ میں ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ احمد لودھیانوی اور مولانا سمیع الحق کی مشترکہ پریس کانفرنس میں میڈیا کو بتایا گیا ہے کہ دیوبند کے علماء پہلے جامعہ تعلیم القرآن جائیں گے جس کے بعد لاشیں اٹھا کر وہ لیاقت باغ کی طرف آئیں گے۔ یہ اعلان سن کر عام لوگوں کی پریشانی اور بھی بڑھ گئی ہے کہ کہیں آج کے دن پھر کوی بڑا واقعہ رونما نہ ہو جائے۔

.......

/169