ابنا: مقامی بدھوؤں نے شکایت کی ہے کہ گروپ ڈاکٹرز جن کو ایم ایس ایف کے نام سے پکارا جاتا ہے۔اس نے صرف تین مسلمانوں کو امداد فراہم کی جب کہ دو زخمی راکھین خواتین کو تڑپتا ہوا چھوڑ دیا گیا۔جن میں سے ایک زخمی عورت اس دنیا سے چل بسی۔تاہم راکھین میں قائم ایم ایس ایف کے اہل کار مائیکل ٹرینایٹ نے بتایا کہ ان کے گروپ کو یہی اطلاع ملی تھی کہ مسلمان مرد زخمی ہوئے ہیں۔ان کے بقول کسی بھی مرحلے ہمیں یہ نہیں بتایا گیاکہ اس برادری میں دیگر لوگ بھی زخمی ہیں۔ورنہ یقینا ہم ان کو بھی ہسپتال میں داخل کر دیتے۔ایک طبی تنظیم کے طور پر ہم نسل یا مذہب کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں برتتے۔ہم ہر کسی کی مدد کے لئے حاضر ہیں۔جسے ہنگامی طبی نگہداشت کی ضرورت ہو۔دراصل چند عشرے قبل اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ایک ادارے کے سمجھوتے کے تحت بین الاقوامی این جی اوز ریاست راکھین آئی تھیں۔جس کا مقصد بنگلہ دیش سے واپس آنے والے مسلمانوں کی آبادکاری میں مدد فراہم کرنا تھا۔تاہم حالیہ برسوں کے دوران ان تنظیموں نے مختلف قسم کے امدادی کام کرنے کی پیش کش کی ۔گزشتہ برسوں سے برما کی ریاست راکھین میں مسلمانوں اور بدھوؤں کے درمیان مذہبی تعصب کی بنا پر بدھووں نے مسلمانوں پر ظلم کرنا شروع کر دیا جس میں سینکڑوں لوگ جاں بحق اور ہزاروں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔.......
/169