8 نومبر 2013 - 20:30
مصر، اخوان المسلمین پر پابندی کے خلاف دائر درخواست مسترد

مصر کی عدالت نے سابق صدر محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمین پر پابندی کے خلاف دائر درخواست مسترد کردی۔

ابنا: مصر کےدارالحکومت قاہرہ میں ہنگامی درخواستیں سننے والی خصوصی عدالت نے اخوان المسلمین پر پابندی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی، عدالت نے فریقین کا موقف سننے کے بعد اخوان المسلمین پر پابندی کے پچھلے عدالتی فیصلے کو برقرار رکھا، عدالتی فیصلے کے مطابق اخوان المسلمین کے پلیٹ فارم سے ملک میں کسی بھی قسم کی سیاسی یا غیر سیاسی سرگرمیوں کو جاری نہیں رکھا جاسکتا۔اس موضوع کا آج کے حالات حاضرہ کے پروگرام گشت گذار میں جائزہ لیں گے۔ جبکہ اس موضوع پاکستان کے تجزیہ نگار سجاد میر سے گفتگو کی، اور پہلے یہ جاننے کی کوشش کی کہ مصر کی عدالت نے سابق صدر محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمین پر پابندی کے خلاف دائر درخواست مستردکر دی آپ کی بھی مصر کے حالات پر گہری نظر ہے آپ اس فیصلے کو کس نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔  اخوان المسلمین مصر کی سب سے پرانی سیاسی جماعت ہے اور اس کی سماجی خدمت کے اداروں سے بھی ہزاروں لوگ وابستہ ہیں، سابق صدر محمد مرسی بھی اسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے ان کی برطرفی کے بعد ستمبر میں اخوان المسلمین پر سیاسی جماعت کی حیثیت سے پابندی لگادی گئی تھی تاہم بعد میں اسے سماجی کاموں میں حصہ لینے سے بھی روک دیا گیا تھا۔ اور اس موقع پر زمینی حقائق کو مد نظر رکھکر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ مصراس وقت اپنی تاریخ کے سخت ترین دور سے گزر رہا ہے۔ اخوان المسلمین نے سول نافرمانی کی  تحریک کی دعوت دی ہے اور محمد مرسی کی برطرفی کے بعد اس جماعت کے حامیوں کے مظاہرے بھی بدستور ہو رہے ہیں اور قاہرہ کے تحریر اسکوائر پربھی مظاہرہ کیا گیا، تحریر اسکوائر وہ جگہ ہے کہ جہاں سے مصری عوام نے آمرانہ نظام کے خلاف اپنی تحریک شروع کی تھی۔ اس وقت بھی انہیں امید ہے کہ مصر کے موجودہ حکمرانوں کے خلاف تحریک کی نئی لہر وجود میں آئے گی۔اس کے ساتھ ہی ساتھ مصر میں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ نے بھی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ مصر کی بہت سی یونیورسٹیوں میں گزشتہ دنوں کے دوران حکومت مخالف مظاہرے ہوئے ہیں۔ ان طلبہ کا نعرہ ہے کہ نوجوان انقلاب کا ستون ہیں۔ اس نعرے نے ہزاروں مصری نوجوانوں کو سڑکوں پر نکالا ہے اور پورے ملک میں ایک بار پھر سکیورٹی فورسز اور عوام کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں۔ لیکن یہ مسلمہ امر ہے کہ اس ملک میں جاری کشیدگی کی صورتحال نے ، شرپسند عناصر اور تخریبی گروہوں حتی انتہا پسند سلفی گروہوں کے لئے حالات سازگار بنادیئے ہیں ۔ اس بناء پر یہ بات مسلم ہے کہ مرسی کے خلاف فوجی کودتا کے بعد کےواقعات نے ، صرف مصر کے سیاسی ڈھانچے کو متاثر نہیں کیا ہے  بلکہ پورے مصر کی فضا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ موجودہ حالات ميں سیاسی اور سماجی تشدد کے علاوہ مصر کی معیشت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر بھی مصر کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے ۔ اس بناء پر ایسا خیال کیا جارہا ہے کہ مصر پر حکمفرما بحران سے نکلنے کا چارۂ کار تلاش کرنا ایک ضرورت ہے ۔ لیکن اس نکتے سے غافل نہيں ہونا چاہيئے کہ فوج کے میدان عمل ميں اتر جانےسے مصر کی صورتحال بہت زیادہ کشیدہ ہوگئی ہے اور اس صورتحال سے نکلنا نہ صرف دشوار ہوگا بلکہ اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایسے حالات میں سب سے زیادہ خطرناک عبوری حکومت کے بعض اقدامات ہیں کہ جن سے داخلی حساسیت میں اضافہ ہو گيا ہے۔سامعین جس طرح پاکستان کے تجزیہ نگار سجاد میر کہہ رہے تھے کہ مصرکی حکومت کو امریکہ کی حمایت حاصل ہے اور امریکہ نے ایک جمہوری حکومت کی بساط لپیٹنے شمیں مصر کی فوج کی حمایت کی۔ لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ کو مداخلت کا راستہ کس نے فراہم کیا اور امریکہ کی نگاہ میں مصرکی کتنی اہمیت ہے۔امریکہ کی علاقائی سیاست میں مصر کی اہمیت کے پیش نظر وائٹ ہاؤس کے حکام نے ہر ممکن طریقے سے مصر کے سیاسی نظام میں تبدیلیاں لانے کی کوشش کی۔ عوام کے منتخب صدر کے خلاف مصری فوج کے کمانڈروں کے ساتھ ساز باز نے مصر کے حالات و واقعات پر اثر انداز ہونے کے لیے امریکہ کو خاص اور اہم موقع فراہم کردیا۔ مصری فوج کے اعلی کمانڈروں نے کہ جن کے مغرب کے ساتھ قریبی تعلقات رہے ہیں اور ان میں سے اکثر امریکہ کے پروردہ ہیں، اپنی کامیابی کے لیے واشنگٹن سے امید لگا رکھی ہیں۔مصر کے نئے سیاسی نظام میں فوج کی مضبوط پوزیشن اور اس کے ساتھ ہی ساتھ ماضی کی طرح امریکی امداد کی بحالی ایسی خواہشات ہیں کہ جن کی تکمیل اس وقت مصری فوج، امریکہ سے چاہتی ہے۔ واشنگٹن بھی چاہتا ہے کہ مصر میں اپنی گزشتہ پوزیش بحال اور علاقائی تبدیلیوں خاص طور پر مسئلہ فلسطین میں مصر کے کردار کو استعمال کر کے مصر کے نئے حکمرانوں کی جانب سے کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے بارے میں صیہونی حکومت کو اطمینان دلا دے۔بعض سیاسی حلقوں کا یہ خیال ہے کہ مصر کے سیاسی میدان میں آنے والی تبدیلیوں کے پیش نظر امریکہ کے فوجی وفد کا دورۂ مصر دونوں ملکوں کے درمیان ت تعلقات کا نیا دور شروع کرنے کے مقصد سے انجام پایا ہے۔ تعلقات کے اس دور کے بارے میں مصری معاشرے اور رائے عامہ میں تحفظات پائے جاتے ہیں اور ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ جو بھی امریکی عہدیدار مصر کا دورہ کرتا ہے تو نہ صرف امریکہ مخالف مظاہروں کی لہر شروع ہو جاتی ہے بلکہ اس ملک میں ایسا واقعہ رونما ہوجاتا ہے کہ جو قومی مفادات اور عوامی مطالبات کے منافی ہوتا ہے۔بہرحال اس بات میں کوئي شک نہیں ہے کہ مصر کی موجودہ صورتحال صرف امریکہ اور صیہونی حکومت کے فائدے میں ہے۔ فوج کے ہاتھوں مصری عوام کا قتل عام قابل مذمت اقدام ہے۔  یہ  بڑے افسوس کی بات ہے مصر جیسا اہم اسلامی ملک انقلاب اور سابق حکومت کی تبدیلی کے بعد ایسے حالات سے دوچار ہوجائے۔ مصری عوام نے قیام کرکے ظالم حکومت کو ہٹایا اور عوامی حکومت برسرکار لے آئے لیکن اب امریکہ اور صہیونی ریاست کی مداخلت کے نتیجے میں یہ صورتحال پیش آئي ہے ۔ یہ بات باعث تشویش ہے کہ موجودہ صورتحال اخوان المسلمین اور حکومت کے درمیاں خانہ جنگي کا سبب بن سکتی ہے۔ مصر کے علماء، دانشوروں اور مفکرین کو دانشمندی سے اس بحرانی صورتحال کا حل تلاش کرنا چاہیے۔

.......

/169